اداریہ (اللہ رمضان المبارک میں جنتی بننا آسان کر دیتا ہے)

ایڈیٹر دختران اسلام

روزہ محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں بلکہ یہ ایک روحانی، اخلاقی اور جسمانی تربیت کا حسین امتزاج ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کو اپنے نفس کی غلامی سے آزاد کر کے تقویٰ اور پرہیزگاری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ روزہ انسان کو ضبطِ نفس، صبر اور شکر کی عملی مشق سکھاتا ہے اور شعوری تربیت سے قلب و ذہن کو پاکیزگی کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے روزے کو فرض کر کے بندوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ محض مادی ضروریات کی تکمیل زندگی کا اصل مقصد نہیں بلکہ روحانی بالیدگی بھی ناگزیر ہے۔ جب انسان روزے کی حالت میں کھانے پینے سے رُک جاتا ہے تو درحقیقت وہ اپنی خواہشات کو قابو میں رکھ کر خود کو ایک اعلیٰ روحانی درجے پر لے جاتا ہے۔ یہ احساس کہ اللہ دیکھ رہا ہے انسان کو گناہوں سے روکنے میں مدد دیتا ہے اور اس کے دل میں خوفِ خدا اور احساسِ بندگی پیدا کرتا ہے۔ روزے کا ایک اور عظیم فائدہ تقویٰ کا حصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

’’اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔‘‘

(البقرہ، 2 : 183)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ روزے کا اصل مقصد انسان کو تقویٰ کی منزل تک پہنچانا ہے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اللہ کے قریب ہو، اس کی نافرمانی سے بچے اور اس کے احکامات پر عمل کرے۔ گویا روزہ ایک تربیتی عمل ہے جو بندے کو اللہ کی رضا کی راہ پر لے آتا ہے۔

روزہ نہ صرف روحانی بلکہ جسمانی فوائد سے بھی بھرپور ہے۔ طبی سائنس بھی تسلیم کرتی ہے کہ روزہ جسم کو زہریلے مادوں سے پاک کرتا ہے، ہاضمے کے نظام کو آرام دیتا ہے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔ آج کل ’’فیٹی لیور‘‘ بہت بڑا مرض بن کر سامنے آیا ہے۔ اس کاشکار ہر عمر کے افراد ہیں۔ ہماری روز مرہ کی غذائوں میں ڈیپ فرائڈ غذا کا عنصر بہت بڑھ گیا ہے جو جگر کے مساموں کو چربی سے بند کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اس مرض کا شکار افراد کو ڈاکٹرز کی طرف سے جو پہلی تجویزدی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ تلی ہوئی چیزوں سے گریز کریں اور اپنے معدے کو ریسٹ دیں یعنی دوکھانوں کے درمیان وقفے کو بڑھادیں، اس وقفے سے بتدریج جگر کی چربی زائل ہونا شروع ہو جاتی ہے اور انسان اس مرض سے نجات پا جاتا ہے۔ روزہ فیٹی لیور کے مرض سے نجات کا بہترین علاج ہے۔ روزہ لاتعداد روحانی و طبی فوائد کا حامل ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے روزے کے فیوض و برکات کے حوالے سے نہایت ایمان افروز گفتگو فرمائی ہے۔ آپ کہتے ہیں اللہ رب العزت نے رمضان المبارک کے مہینے میں جنتی بننا آسان کر دیا ہے، جیسے ہی رمضان المبارک کا آغاز ہوتا ہے تو اللہ رب العزت 3 فیصلے فرماتا ہے۔

(1) جنت اور آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔
(2) دوزخ کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔
(3) شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے۔

آسمانوں کے دروازے کھولنے کا مطلب یہ اشارہ ہے کہ اللہ پاک کی رحمتوں، نعمتوں اور برکتوں کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں یعنی اللہ کے فضل و کرم کا دروازہ رحمت و بخشش اور مغفرت کا دروازہ، قربت الٰہی کا دروازہ یہ سب دروازے کھل جاتے ہیں تاکہ بندہ ان مقدس ایام میں تائب ہو کر اللہ کی اطاعت و بندگی میں آجائے۔ شیطان کو جکڑ دینے کا تصور بھی یہی ہے کہ توبہ کرنے والا بندہ بلا رکاوٹ اللہ کی حضوری میں پیش ہو جائے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں اس رمضان المبارک کے زیادہ سے زیادہ فیوض و برکات سمیٹنے کی توفیق بخشے اور ہم حضور نبی اکرم ﷺ کی مبارک سیرت اور معمولات کے مطابق زیادہ سے زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں صرف کر سکیں۔ اس ماہِ مبارک میں اللہ کی خوشنودی کے لئے مستحقین کی ضروریات کا بھی خیال رکھا جائے۔ عزیز و اقارب اور ہمسایوں کی خبرگیری کرتے رہیں کہ کوئی مالی مشکلات کے باعث لوگ رمضان المبارک کی عبادت و ریاضت سے محروم نہ رہ جائے۔