روحانی ترقی کی شرائط اور تقاضے

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

 

ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین
معاون: محمد ظفیر ہاشمی

گذشتہ سے پیوستہ

قلب کو طہارت سے آراستہ کرنے اور اسے زنگ سے پاک کرنے کے لیے درج ذیل مراحل سے گزرنا پڑتا ہے:

1۔ پہلا مرحلہ: تزکیہ: قلب کا زنگار سے صاف اور پاک ہون۔

2۔ دوسرا مرحلہ: تصفیہ: قلب کا غیر کے غبار سے پاک ہون۔

3۔ تیسرا مرحلہ: تخلیہ: دل کا اللہ کی خلوت گاہ بن جان۔

4۔ چوتھا مرحلہ: تجلیہ: اللہ رب العزت کی بارگاہ سے قلب پر عالمِ غیب سے تجلیات کا وارد ہون۔

5۔ پانچواں مرحلہ: تحلیہ: بندے کو اللہ کے اخلاق کا زیور پہنایا جان۔

ان مراحل کا تفصیلی بیان گزشتہ شمارہ ماہ اپریل2023ء میں شائع ہوچکا۔ طہارت القلوب کے ذیل میں قلب کو مزید کن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اس کی تفصیل نذرِ قارئین ہے:


تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، تخلیہ، تجلیہ اور تحلیہ ان پانچ مراحل کے ذریعے آئینہ قلب کے زنگار صاف ہوتے ہیں اور ماسوی اللہ کا غبار اُترتا ہے۔ من کی صفائی ہوتی ہے اور دل اللہ کا خلوت کدہ بنتا ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں:

آئینہ کز زنگ آلایش جداست
پُر شعاع نور خورشید خداست

جب آئینہ (قلب) ماسوی اللہ کے زنگار اور میل سے پاک ہو جاتا ہے تو وہ آئینہ آفتاب انوارِ الٰہیہ کی شعاع سے چمک اُٹھتا ہے۔ پس اے طالب! اپنے دل کے چہرے کو زنگ، میل کچیل اور آلائشوں سے پاک کر اور پھر اپنی ریاضت اور مجاہدہ کے ذریعے اُس نور کو حاصل کر جس کا تو طالب ہے۔

یعنی طہارتِ قلب کے حصول کے لیے پہلے اپنی سوچ اور فکر میں یکسوئی پیدا کرنا ہوگی، انتشارِ فکری ختم کرنا ہوگا اورپھر پوری توجہ سے اِس کا مفہوم سمجھنا ہوگا۔ اس کے بعد ہی اس سفر کا اگلا مرحلہ نصیب ہوگا۔ پس یہ عاشقوں اور عارفوں کا راستہ ہے، اس راستے کے مراحل کو طے کرنے سے ہی روح کو ترقی کا راستہ میسر آتا ہے۔

6۔ الترقی

روحانیت کے سفر میں ’’الترقی‘‘ چھٹا مرحلہ ہے۔ جب انسان نفس کو پاک کرتا ہے اور دل کے آئینے کو غبار سے صاف کر کے اسے خلوت کدہ بناتا ہے تو اس کا دل اللہ کی تجلیات کا مورد بن جاتا ہے۔ بندہ اللہ کے اوصاف و اخلاق کا رنگ اپنے اوپر چڑھا کر جب آگے چلتا ہے تو پھر یہاں سے اُس کے مراتب اورمدارج میں ترقی شروع ہوجاتی ہے۔ پہلے پانچ مرحلے اُس کی ابتدائی ریاضت اور مجاہدہ کے تھے، جس کے نتیجے میں اُسے اللہ کی بارگاہ سے خلوت اورتجلی نصیب ہوگئی اور اس پر الوہی اخلاق کا رنگ چڑھ گیا، اب اس کے مراتب اور مدارج کا آغاز ہورہا ہے۔

7۔ اَلتَّنَقُّلْ

ساتویں مرحلے پر طہارتِ قلب کی راہ میں حائل جملہ رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اور بندہ آسانی اور تیز رفتاری سے روحانی ترقی کی منزلیں طے کرنے لگتا ہے۔ ترقی کی ان منازل کو عربی کی اصطلاح میں التنقل کہتے ہیں۔ جیسے بندہ نقل مکانی کرتا ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہے، اسی طرح ایک نقلِ روحانی بھی ہوتی ہے، روح ترقی کی منازل طے کرکے عالمِ ملکوت، عالمِ جبروت اور عالمِ لاہوت کی طرف محو پرواز ہو جاتی ہے اور مرحلہ در مرحلہ، منزل در منزل انسان کو روحانی ترقی ملنا نصیب ہو جاتی ہے۔ جوں جوں ترقی ہوتی ہےتوں توں اللہ کے اخلاق کا رنگ چڑھتا چلا جاتا ہے اور بندے کی طبیعت بدلتی چلی جاتی ہے۔

روحانی درجات کی منتقلی کے دوران ہر فرد اپنی طبیعت اور مزاج کے مطابق حصہ حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے پیکر بشری کے بارے میں قرآن مجید میں کہیں فرمایا کہ انسان کو پانی سے بنایا۔ کہیں فرمایا کہ انسان کو مٹی سے بنایا۔ کہیں فرمایا کہ انسان کو کیچڑ سے بنایا۔ کہیں فرمایا کہ طین لازب (چپکتے ہوئے گارے) سے بنایا۔ کہیں فرمایا کہ بجنے والے بو دار گارے سے بنایا۔ ان سب چیزوں سے پیکرِ بشری تشکیل پاتا ہے۔

اس کو اس بات سے سمجھا جا سکتا ہے کہ طب میں مفردات کا لفظ بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ مفردات ایک single element ہوتا ہے، ہر مفرد کی ایک اپنی تاثیر ہوتی ہے، اطباء اور حکماء نے مفردات کے خصائص اور تاثیرات پر کتابیں لکھی ہیں۔ حکماء مرض کی تشخیص کے بعد نسخے بناتے ہیں تو کئی مفردات ملا کر ایک نسخہ بنتا ہے۔ دو یا دو سے زائد مفردات اکھٹے ہو جائیں تو اُسے مرکب کہتے ہیں۔ جو خاصیت اور تاثیر مفردات کی تھی، مرکب میں ان سب مفردات کی تاثیرات جمع ہو جاتی ہیں۔ مرکب سے پتہ چلتا ہے کہ دوائی کی ٹھنڈی تاثیر ہو گی، گرم تاثیر ہوگی یا معتدل تاثیر ہوگی؟ مختلف طبائع پر اس کا کیا اثر ہوگا؟

یہی قاعدہ انسان کے بشری پیکر کی تشکیل میں ہے۔ جس انسان کی تشکیل میں پانی کا غلبہ ہوگا تو اس کی طبیعت میں کسی ایک طرف ٹھہراؤ نہیں ہوگا۔ نیکی کا ماحول ملا، اُدھر بہہ گیا، بُرا ماحول ملا اُدھر بہہ گیا، انسان کے اندر یہ سیلانیِ طبع پانی سے آئی ہے۔ اسی طرح آگ کی تاثیر کا غلبہ ہو تو انسان کو جلد غصہ آجاتا ہے۔

بتانا مقصود یہ ہے کہ ہر چیز کا اپنا اپنا اثر ہے، لیکن ان تمام عناصر کو اعتدال پر لانا ہی کمال ہے۔ کمال افراط اور تفریط میں نہیں ہے۔ افراط اور تفریط میں خیر نہیں بلکہ خیر صرف اعتدال میں ہے۔ روحانی ترقی کی طرف سفر کرتے ہوئے ترقی کے ساتھ ساتھ انسان کی طبیعت بھی معتدل ہوتی چلی جاتی ہے۔ کئی اولیاء اور صوفیاء کی طبیعت میں اوائل وقت میں جلال ہوتا ہےمگر جوں جوں وہ کمال کی طرف جاتے ہیں تو جلال اعتدال میں بدلتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر کسی کے ساتھ ربط اور تعلق میں ان سے کمی یا زیادتی نہیں ہوتی۔

8۔ اَلتَدَانِيْ

جب احوال میں ترقی ہوتی ہے تو اُس کے بعد ایک درجہ آتا ہے جس کو تصوف، معرفت اور سلوک کی زبان میں ’’التدانی‘‘ کہتے ہیں۔ ترقی کی راہ میں اس کو مرتبۂ عروج کہتے ہیں۔ اس مقام پر بندے کی طبیعت میں روحانیت عروج پر ہوتی ہے اور بندہ اللہ تعالیٰ کی قربت میں ہوتا ہے۔ اُس منزل پر بندے کو ثُمَّ دَنَا کا فیض کا حصہ ملتا ہے۔

9۔ اَلتَدَلِّي

جب مرحلہ تدانی مکمل ہوتا ہے تو اگلا مرحلہ ’’التدلی‘‘ کا آتا ہے۔ اس مرحلہ پر فَتَدَلَّى (پھر وہ جلوہ حق قریب ہوا) کا فیض ملتا ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اُس بندے کے قلب، روح، سِر اور اُس کے باطن پرنزولِ اجلال فرماتا ہے۔ بندہ اس کے قرب کا سفر طے کرتا ہے اور حدیثِ قدسی کے مصداق اس مقام پر اللہ بندے کو اپنی قربت کی بارگاہ میں لے لیتا ہے۔ اس مقام پر تمام حجابات اُٹھا دیئے جاتے ہیں اور اِس طرح بندے کو معراج نصیب ہوتی ہے۔

10۔ التَلَقِّي

اس مقام پر بندہ براہ راست بارگاہِ حق سے اخذِ فیض کرتا ہے،سماع کرتا ہے،مشاہدہ ہوتا ہے، مواجہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی تجلیات، کرم نوازیوں اور عنایتوں کا نزول فرماتا ہے۔

11۔ التَوَلِّي

تلقی کی منزل طے کرنے کے بعد اگلا درجہ التَوَلِّي ہے۔ اُس مقام پر بندہ اپنے آپ کو بھول چکا ہوتا ہے۔ یہ عالمِ بے خودی ہے۔ یہاں انوار و تجلیات کا ایک غلغلہ ہوتا ہے، جس میں بندہ گم ہوجاتا ہے۔ یہاں قربت کی مزید منزلیں طے ہوتی ہیں۔ جب اخذِ فیض کا سلسلہ اپنے کمال پر پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے بندے! تجھے کامل کر دیا، اب تو پلٹ جا۔ چنانچہ اُس کی بارگاہ سے عروج کے بعد نزول ہوتا ہے اور اس موقع پر مرتبے تمام ہو جاتے ہیں۔ معراج کی رات جب حضور نبی اکرمﷺ اوپر جا رہے تھے، تو مرتبہ عروج میں تھےاور جب آپﷺ اپنی شان اورمرتبے کے مطابق فیض لے کر پلٹےتو یہ مقامِ نزول تھا جس کا ذکر سورۃ النجم کی آیات میں کیا گیا۔

پس جب بندہ اپنے زنگار اور غیر کے غبار کو دور کر کے اپنے آئینہ قلب کو صاف کر لیتا ہے اور محنت، ریاضت اور شوق سے روح کوترقی کا راستہ دیتا ہے تو مذکورہ مراحل کو عبور کرنے کے بعد اس کی روح ترقی پاتی ہے اور پھر بالآخر حصولِ کمال کے بعد واپس پلٹ آتی ہے۔

روحانی ترقی کے تقاضے

روحانی ترقی کے مراحل عبور کرنے کے حوالے سے ایک چیز بڑی توجہ طلب ہے کہ روحانی ترقی کے راستہ کے کچھ تقاضے ہیں، انھیں مکمل کیے بغیر اس سفر پر روانہ ہونا اور منزل کو پانا ناممکن ہے۔ ذیل میں روحانی ترقی کے چند تقاضے درج کیے جارے ہیں:

(1) تذکّر

اِس پورے سفرکی ابتداء سماع یعنی سننے سے شروع ہوتی ہے۔ سننے میں سب سے پہلا قدم تذکر ہے کہ بندہ جو سنے، اسے نصیحت میں بدل دے۔ سنتا تو ہر کوئی ہے مگر اُس کو تذکر میں نہیں بدلتے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ

(الغاشیہ،88: 21)

’’ پس آپ نصیحت فرماتے رہیے، آپ تو نصیحت ہی فرمانے والے ہیں۔ ‘‘

اگر کچھ حاصل کرنا ہے، تو جو سنیں، اس کو اپنے لیے نصیحت سمجھیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم جو سنتے ہیں، اس کے بارے میں یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ دوسروں کے لیے ہے۔ یاد رکھیں! دوسروں کی طرف توجہ کرنا جائز نہیں۔ جب کسی سے نصیحت سنیں تواس نصیحت کو اپنے من پر وارد کریں، سنیں تو یوں لگے کہ ہم ہی اِس بات کے حق دار ہیں اور ہمارے لیے یہ بات کی گئی ہے۔ یوں لگےکہ اول سے آخر تک سارا مضمون ہمارے اوپر تھا۔ صحابہ کرام جب آقا ﷺ کا خطاب سنتے تو ہر صحابی اُس کو اپنے حال پر وارد کرتا، جو کچھ سنتا، اس کے اندر اپنے لیے مطابقت اور مناسبت تلاش کرتا کہ میرے اندر فلاں فلاں امور موجود ہیں اور ان ہی کے لیے آج مجھے نصیحت ملی۔ اگر ہمارے اندر اِس طرح کی سوچ ہوگی تو پھر یہ تذکر ہو گا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ اپنے حال سے سب سے زیادہ خود واقف ہوتا ہے اور بندے سےاپنا چھپا ہوا کچھ نہیں ہوتا۔ اُس کی طبیعت کیا ہے؟کس کس بات پہ ناجائز غصہ آتا ہے؟ کس چیز کا حرص و لالچ ہے؟ کس پر حسد ہے؟ کیسے انانیت، عجب اورخود پسندی آتی ہے؟ الغرض بندہ اپنےایک ایک حال سے پردہ اُٹھا کر نصیحت کو اپنے اوپر وارد کرے اور اِس سے تذکر پائے۔ یہ پہلا قدم ہے۔ بندہ اپنے اندر کے حال کو اور نصیحت کے سماع کوجوڑ دے اورپھر تعین کرے کہ میرے کون کون سے امور کے لیے نصیحت ہوئی ہے۔

(2) تفکّر

تذکر کے بعد ہے تفکرآتا ہے۔ جب تذکر نصیحت بن جائے، تو پھر غور کریں کہ میری یہ خرابی کہاں سے آئی ہے؟ ابتداء میں کہاں تھی؟پچھلا زمانہ یاد کریں کہ کب تک نہیں تھی، پہلی مرتبہ کب آئی؟کتنی رفتار سے بڑھتی گئی؟کس کس شے نے میری اِس خرابی کو اور بڑھایا؟ الغرض اپنے من میں جھانک کر اپنا سراغ لگائیں اور اس بات کو جاننے کی کوشش کریں کہ کون سی چیز میرے نفس کو خوش کرتی ہے اور کون سی خوش نہیں کرتی؟اصلاح کیسے کرنی ہے؟ نفس کی مخالفت کیسے کرنی ہے؟ اِن چیزوں پر سوچ بچار کرنا، اپنا تجزیہ کرنا اور اپنی بہتری کی فکر کرنا، اِس سارے مرحلہ کو تفکر کہتے ہیں۔

نصیحت کا قبول کرنا تذکر تھا۔ اب اصلاح کی فکر میں لگ گئے، ایک تشویش ہوگئی، فکر دامن گیر ہوگیا کہ اب اِس سے کیسے نجات پاؤں؟ یہ سب کچھ کیسے ہوگا؟ یہ تفکر ہے۔

(3) توجہ اور تجمّع

روحانی ترقی کے حصول کے لیے تیسرا مرحلہ اور تقاضا توجہ اور تجمع کا ہے۔ بندہ جب تذکر کے بعد تفکر میں داخل ہوتا ہے تو ذہن میں انتشار ہوتا ہے کبھی ذہن اِدھر چلا جاتا ہے کبھی اِدھر چلا جاتا ہے، یکسوئی نہیں ہوتی۔ نماز میں بھی یکسوئی نہیں ہوتی، طرح طرح کے خیالات آتے ہیں، دھیان اور فکر منتشر ہوتی ہے۔ اس ذہنی انتشار سے بہت ساری سوچیں جنم لیتی ہیں، اُن کی کوئی سمت نہیں بنتی۔ فوکس (concentration ) نہیں ہوتا۔ اس بات کو ہم درج ذیل امثال سے سمجھ سکتے ہیں:

1۔ کیمرے سے فوٹو بنانے کے لیے پہلے اسے فوکس کرتے ہیں۔ کیمرہ اور اُس تصویر کے درمیان کے فاصلے کو فوکل length کہتے ہیں۔ فوٹو گرافر جانتا ہے کہ کس پر فوکس کرنا ہے اور کس پر نہیں کرنا، جبکہ ہم اصل چیز سے توجہ ہٹا دیتے ہیں اور غیر ضروری باتوں پر توجہ کر دیتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ایک گھنٹہ بھی ان کو سنتے رہیں تو سمجھ نہیں آتی کہ یہ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ ان کا فوکس کیا ہے؟ فوکل پوائنٹ کیا ہے؟

2۔ اسی طرح جن وکلا کا فوکس ٹھیک نہیں ہوتا، وہ کیس ہار جاتے ہیں۔ اس لیے کہ وہ توجہ نہیں دیتے کہ کس دلیل پر زور دینا ہے، کس پر نہیں دینا اور اس طرح وہ غیر ضروری کو ضروری بنا بیٹھتے ہیں اور ضروری کو غیر ضروری اور یوں کیس ہار جاتے ہیں۔

3۔ اسی طرح لوگ جوڈو کراٹے میں کئی اینٹیں اور لکڑیاں توڑتے ہیں۔ یہ بھی اسی وجہ سے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنی توجہ کو فوکس کرتے ہیں اور پورے جسم کی طاقت کو فوکس کرکےایک نقطۂ ارتکاز پر لاتےہیں اور پھر ضرب لگاتے ہیں اور اس طرح اس ضرب میں دس بیس بندوں سے زیادہ طاقت آجاتی ہے۔

4۔ صحت کے لیے ایک خاص ورزش یوگا ہے۔ اس یوگا میں بھی فوکس ہوتا ہے۔ depression کے مریضوں کو بھی فوکس کرواتے ہیں۔ صوفیاء تصورِ شیخ کرواتے ہیں، اسمِ ذات پر فوکس کرتے ہیں تاکہ ذہن سے انتشار ختم ہو۔ توجہ اور فکر کو فوکس کیے بغیر ہم ترقی نہیں کرسکتے۔

5۔ جب کسی کیاری یا زمین میں از خود گھاس پھوس اُگ آتی ہے تو ہم اُس کو اُکھاڑ پھینکتے ہیں، اِس لیے کہ زمین کا فوکس گھاس پھوس پر نہ ہو۔ زمین کی قوتِ تخلیق جس نے پودے کو نمو دینا، اس کی افزائش کرنا اور بڑا کرنا تھا، وہ قوت اس گھاس پھوس پرصرف نہ ہو، اس لیے اُس کو نکال پھینکتے ہیں، تاکہ زمین کی قوتِ تخلیق اصل پودے پر مرکوز ہو سکے۔

6۔ اِسی طرح مختلف پودے جب بے ہنگم بڑھ جائیں تو باغ بھی اچھا نہیں لگتا، کیاریاں اچھی نہیں لگتیں تو مالی ان بکھری ہوئی ٹہنیوں کو کاٹتا ہے، اس سے ان کی شکل بھی خوبصورت ہوجاتی ہے اور نشوونما میں بھی فوکس آجاتا ہے اور انتشار ختم ہوتا ہے۔

یہی حال بندے کا ہے کہ غیر ضروری چیزوں پرتوجہ لگی رہتی ہے اور ضروری چیزوں سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔ روحانیت میں تذکر اور تفکر کے بعد اگلا مرحلہ اور تقاضا فوکس کا ٹھیک ہونا ہے، اُس فوکس کو توجہ اورتجمع کہتے ہیں۔ یاد رکھیں! ذہنی و قلبی انتشار بندے کو ڈی ریل کرتا ہے اور توجہ کی طاقت کو ختم کرتا ہے۔ اِنتشار کو ختم کرنا اور ساری سوچ، ہمت، توجہ، صلاحیت اور باطنی صلاحیتوں کو ایک نکتے پر مرکوز کرنے کو تجمع کہتے ہیں۔

(4) تتبع

تتبع سے مراد اتباعِ شریعت و سنت ہے۔ تتبع ہمارے اندر نور پیدا کرتی ہے۔ مذکورہ تین تقاضوں کے بغیر جب تتبع کرتے ہیں تو اجر و ثواب تو ملتا ہے مگر ترقی نہیں کر سکتے۔ اگر چاہیں کے ترقی ہو، کولہو کے بیل کی طرح ساری زندگی ایک ہی جگہ گھومنے میں نہ گزر جائے، اگر چاہیں کہ آگے بڑھیں اور منزلیں طے ہوں تو پھر تذکر، تفکر، تجمع اور توجہ کے ساتھ تتبع کو جوڑیں۔ اگر ہم اتباع کریں، پیروی کریں، نماز پڑھیں، سنت پر عمل کریں، تلاوت کریں مگر اُس میں فوکس نہیں ہے، اُس میں تجمع اور یکسوئی ہی نہیں ہے، تو ہم روحانی ترقی نہیں کر سکتے۔ اتباعِ سنت و شریعت ہر وقت پیش نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

(5) تحضر اور تخلق

روحانی ترقی کے لیے تتبع کے بعد تحضر اور تخلق کا مرحلہ آتا ہے۔ اہل لغت لکھتے ہیں کہ اگر گاؤں کا ایک آدمی شہر آئے اور شہر میں مستقل رہائش اختیار کر لے اور شہر والوں کا رہن سہن اپنا لے،اُن کے اخلاق اور طور طریقے اپنا لے، تو اِس کو تحضر اور تخلق کہتے ہیں۔

جب بندہ تتبع کرتا ہے تو تتبع کے لئے ایک وطن چھوڑنا پڑتا ہے اور دوسرا وطن اختیار کرنا پڑتا ہے۔ وطن اس علاقہ کو کہتے ہیں کہ جس سے بندے کی طبیعت مانوس ہو، اپنائیت لگے، جہاں طبیعت فرحت محسوس کرے اور جھجک محسوس نہ ہو۔

گناہ کی زندگی بھی ایک وطن ہے، اس لیے کہ جن لوگوں کو گناہ میں اجنبیت نہیں لگتی بلکہ اپنائیت لگتی ہے اور اللہ کی نافرمانی کے ساتھ طبیعت مانوس ہے، معصیت سےوحشت نہیں ہوتی تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ بندے نے گناہوں کو وطن بنا رکھا ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بعض بندے جھوٹ، فریب، بخل اور دیگر رذائل کو اختیار کرتے چلے جاتے ہیں، اُن کو یہ لگتا ہی نہیں کہ وہ کیا کررہے ہیں، یہ رذائل ان کی زندگی میں راسخ ہوجاتے ہیں۔ یہ بُری عادات، گناہ اور بُری خصلتیں جب طبیعت میں راسخ اور رچ بس جاتی ہیں تو وہ اس بندے کا وطن بن جاتی ہیں اور اُن سے وہ مانوس ہو جاتا ہے۔ پھر گناہ کرتے ہوئے اسے حیرت نہیں ہوتی اور یوں لگتا ہے جیسے وہ اِسی وطن کا رہنے والا ہے۔

اس صورتِ حال میں ہمیں گناہوں کی زندگی سے ہجرت کرنا پڑتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر کہ ہجرت کے بغیر ترقی نہیں ہوتی۔ انبیاء کرام علیہم السلام کی اکثریت نے ایک جگہ سے دوسری جگہ ہجرت کی۔ جس طرح بندے اللہ کے لئے ہجرت کرتے ہیں، اِس طرح ارواح اور طبیعتیں بھی ہجرت کرتی ہیں۔ طبیعت گناہ کے وطن سے مانوس تھی، اس نے توبہ کر لی، یہ بھی ہجرت کی ایک قسم ہے۔ اسی طرح جب گناہ کے وطن سے نکلے اور نیکی اور تقوی کے وطن کو گھر بنا لیا تو پہلے طبیعت گناہ کے گھر سے مانوس تھی، اب ہجرت کرکے جب زمانہ گزر جاتا ہے، گناہ کا وطن بھول جاتا ہےتو اب طبیعت نیکی کے گھر سے مانوس ہوگئی۔ اب مسجد میں میں داخل ہونے لگیں تو چاہیں بھی تو بائیں قدم کے بجائے دایاں قدم ہی مسجد میں رکھیں گے۔ پانی پیتے ہوئے بائیں ہاتھ سے گلاس اُٹھا ہی نہیں سکتے کیونکہ وطن بدل گیا ہے اور طبیعت، رحجان اور عادت بدل گئی ہے۔

ہجرت سے نئے وطن میں تحضر ہوتا ہے اور اُس وطن کےحال واحوال کا تخلق ہوتا ہے، پھر اُس وطن کا رنگ چڑھتا ہے، پھر بندہ اس وطن کی بولی سیکھتا ہے، اُس وطن کے لوگوں کے لباس پہنتا ہے، اُن جیسا رہن سہن اختیار کر لیتا ہے۔ یہ سارے رہن سہن تب آئیں گے جب اُس وطن کے لوگوں کے ساتھ صحبت و سنگت اور رفاقت کریں گے، تب جا کر تحضر ہو گا، ہجرت ہوگی اور نئے وطن میں سکونت ہوگی۔ جب بندے تخلق پر آجائیں گے تو اب یہاں پردے اُٹھتے ہیں اور رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اور ترقی شروع ہو جاتی ہے۔

(6) ریاضت اور مجاہدہ

گناہ کی زندگی سے نیکی کی زندگی کی طرف ہجرت کرنے کے بعد بندے کو ریاضت اور مجاہدہ کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ ریاضت اور مجاہدہ میں فرق ہے۔ نفس کی طبیعت کو چھوڑ دینا اور ہجرت کرکے نئی طبیعت میں چلے جانا اور اس کے لیے محنت اور کوشش کرنا، اِس کو ریاضت کہتے ہیں اور اِس سے اخلاق سنورتے ہیں۔

الرياضة وهو الخروج عن طبع النفس

نفس کی طبیعت سے نکل جانے کا نام ریاضت ہے۔

جبکہ نفس کو مشقت کا عادی بنانا، مجاہدہ ہے۔ نفس کی خواہش کے خلاف جو عمل ہے، اُس کی طبیعت اور عادت ڈالنا اور ہوائے نفس کی ہر حال میں مخالفت کرنا مجاہدہ کہلاتا ہے۔ اگر ہم نفس کو مشقت کی عادت ہی نہ ڈالیں تو نیک اعمال کا اجر اور ثواب تو ضرور ملے گا مگر ریاضت اور مجاہدہ میں پڑے بغیر قربِ الہٰی ممکن نہیں۔

ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم ریاضت و مجاہدہ کے تصور سے ہی بے بہرہ ہیں۔ اگر کسی سے غلطی سے نادانستہ طور پر بھی ہمیں تکلیف پہنچ جائے تو ہم اسے بھی معاف نہیں کرتے۔ ہر شخص کے سوچنے کے دو زاویے ہیں: سوچنے کا مثبت زاویہ بھی ہے اور منفی زاویہ بھی ہے۔ جب تکلیف پہنچانے والے کو ہم نے خوب برا بھلا کہہ دیا تو یہ ایک منفی سوچ ہے جبکہ دوسرا زاویہ یہ ہے کہ ہم نے تکلیف پہنچانے والے کی طرف اس لیے دیکھا ہی نہیں کہ وہ شرمندہ ہوگا۔ بس بات ختم ہوگئی، یہ مثبت سوچ ہے۔ ہم ہنس پڑے اور کہہ دیا کہ اللہ آپ کا بھلا کرے۔ سوچ کا یہاں تک آنا ریاضت اور مجاہدہ کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

بعض اوقات کسی کی ریاضت اِس میں ہوتی ہےکہ اُس کو دے کر آزمایا جاتا ہےاور کسی کو محروم رکھ کر آزمایا جاتا ہے۔ اگر اس نے دیا ہے تو اب اُس کا حساب ہوگا۔ اسی طرح کسی بندے سے اللہ محبت کرتا ہے اور اللہ کی محبت یہ نہیں چاہتی کہ اِس بندے سے زیادہ حساب ہو، پس وہ اُس کو دیتا ہی نہیں۔ نہ دے گا اور نہ حساب ہوگا۔ یہ اللہ کی محبت کا ایک الگ رنگ ہے۔ ہمیں کیا خبر کہ اللہ کی کون سی محبت کا رنگ اُس بندے کے ساتھ ہے۔

حضرت ابراہیم بن ادہمؒ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دنیا سے فرماتے ہیں: اے دنیا !میرے عاشقوں کے لیے کڑوی بن جا۔ میں نہیں چاہتا کہ میرے عاشق تیرے ساتھ دل لگائیں اور جو تیرے عاشق ہیں، اُن کے لیے میٹھی ہو جا تاکہ وہ تجھ سے لذت لیں۔

پس کسی کو آزمائش میں ڈالنا چاہتا ہے اور کسی کو آزمائش سے بچانا چاہتا ہے۔ یہ اللہ کے فیصلے ہیں، بندے کا کام یہ ہے کہ مولا کے ہر فیصلے پر راضی رہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اِس سے بندے کی روحانی ترقی کی منزلیں شروع ہو جاتی ہیں اور پھر اُس کو وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَى کا فیض ملتا ہے۔ بندے کو چاہئے کہ نہ ملنے کے ملال کو اپنے دل سے نکال دے۔ کمال تو یہ ہے کہ اپنی چاہت بھی چھوڑ دے۔ مل جائے تب بھی راضی اور نہ ملے تب بھی راضی۔ یہی بندے کی شانِ بندگی ہے، اِس میں بندے کو اللہ تعالیٰ کمال عطا کرتا ہے۔

(7) ادب

روحانی ترقی کے حصول کے لیے سب سے اہم تقاضا ادب ہے۔ مولانا روم فرماتے ہیں:

از خدا جوئیم توفیق ادب
بی ادب محروم ماند از لطف رب

بی ادب تنہا نہ خود را داشت بد
بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد

’’ہم اللہ سے ادب کی توفیق چاہتے ہیں۔ اِس لیے کہ بے ادب ہمیشہ اللہ کے فضل سے محروم رہتا ہے۔ بے ادب صرف اپنے آپ کو برباد نہیں کرتا بلکہ سارے اطرافِ عالم میں آگ لگا دیتا ہے۔ ‘‘

یعنی ایک بے ادب شخص کی بے ادبی اُس کا اپنا خانہ تو خراب کرتی ہی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ پورے جہاں کو بھی آگ لگا کر بھسم کر دیتی ہے۔ یعنی یہ اس قدر اخلاق سوز عادت ہے۔

روحانی ترقی کے لیے ادب کو اختیار کرنا ہر ایک کے ذمے لازم ہے۔ ہر قسم کا گناہ اور ظلم بے ادبی میں شمار ہوتا ہے۔ حرص، توکل کی کمی، عقیدےمیں یقین کی کمزوری اور ناشکری؛ یہ ساری چیزیں مل کر طبیعت میں بے ادبی پیدا کرتی ہیں جبکہ شکر کرنا، سخاوت کرنا اور بانٹ دینا ادب کہلاتا ہے۔

بے ادبی دو طرح کی ہوتی ہے:

  1. قولی بے ادبی
  2. عملی بے ادبی

آدمی کبھی زبان سے لفظ بول کر بے ادبی کرتا ہے، اُس سے بھی بچنا چاہیے۔ کبھی زبان سے تو لفظ نہیں بولتا مگر عمل ایسا کرتا ہے جو اسے بے ادب بنا دیتا ہے۔ ناشکری کا عمل، حرص کا عمل، اللہ پر بے اعتمادی اور بے یقینی کا عمل، توکل کے نہ ہونے کا عمل، یہ سارا طرزِ عمل بے ادبی ہے۔ بے ادبی قولی ہو یا عملی، یہ دونوں صورتوں میں اللہ رب العزت کے عذاب کو دعوت دیتی ہے اور اللہ کی رحمت اور نعمت سے بندے کو محروم کرتی ہے۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ہمیشہ اپنا ایمان قائم رکھیں۔ اُس کے اوپر اپنے توکل اور یقین کو کبھی کمزور نہ ہونے دیں۔ اُس نے جو وعدہ کر دیا ہے، اُس پر پختہ ایمان اور یقین رکھیں اور اللہ کے فرمان کی ہمیشہ اطاعت بجا لائیں۔ سخاوت، توکل و بے نیازی، استغناء اور قناعت کو اپنی طبیعت کا حصہ بنا لیں۔ جب طبیعت کو اِن خصائل اور اخلاق کے ساتھ مزین کریں گے تو یہ اللہ کے حضور ادب کہلائے گا۔

اللہ رب العزت ہماری زندگیوں کو روحانی ترقی کے تقاضے پورے کرنے اور ہر طرح کے ادب کے ساتھ زندگی کو شناسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلینﷺ