ترتیب و تدوین: ثناء وحید۔ ۔ ۔ ۔ خصوصی معاونت: جویریہ ابراہیم، عائشہ رشید
مفکر وہ ہوتا ہے جو زمانے کی نبض پر ہاتھ رکھ کرمرض کی تشخیص کرنا جانتا ہو۔ تشخیص کے بعد مرض کے جاننے کے لیے کامیاب نسخہ تجویز کر سکتا ہو۔ شیخ الاسلام اس صدی کے وہ مسلم مفکر ہیں جنہوں نے نہ صرف اس اُمت کے مرض کی تشخیص کی بلکہ نسخہ تجویز کر کے خود اپنے ہاتھوں سے مریض کو استعمال کروا کر اس کی تجرباتی توثیق کر دی۔ ان کے نزدیک آج کا مسلمان, بالخصوص مسلم نوجوان نسل اسلام کی تعلیمات کے حوالے سے ذہناً، عملاً اور قلباً عدم اطمینان اور تذبذب کا شکار ہے اس لیے اس کو تینوں پہلوؤں سے اسلام کی حقانیت کا یقین دلانا ضروری ہے اور ان تینوں پہلوؤں سے اسلام کی نمائندگی وقت کی پیکار ہے۔
منہاج القرآن ویمن لیگ پاکستان نے امسال بھی اپنے قائد شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو منفرد اور دلچسپ انداز میں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک پینل ڈسکشن
بعنوان: شیخ الاسلام سیریز: نظریہ اور اسلوبِ دعوت و فکر
کا اہتمام کیا جس میں معاشروں میں تحریکیں کیوں جنم لیتی ہیں۔ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کون ہیں؟امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے قیادت کی کیا خصوصیات ہونی چاہیے؟
تحریک منہاج القرآن کی رفاقت سے کیا مراد ہے؟ نوجوان نسل کی منہاج القرآن سے وابستگی کیوں ضروری ہے؟ جیسے اہم موضوعات کو شامل بحث کیا گیا ہے۔
مذکورہ پینل ڈسکشن کے 5 سیشنز کو قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے:
سیشن: 1 ہوسٹ: عائشہ مبشر
عنوان: تحریک منہاج القرآن کا فکرو نظریہ
مہمان: بریگیڈیئر(ر) اقبال احمد خان (نائب صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل)
ڈاکٹر فرح ناز (صدر منہاج القرآن ویمن لیگ)
عائشہ مبشر: تحریکیں کیوں جنم لیتی ہیں؟
بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان: تحریک ’’تحرک‘‘ سے ہے۔ تحرک اور جمود کو جو چیز توڑتی ہے وہ اس پیرائے میں آتی ہے کہ جو آگے کی طرف بڑھنے کا ایک اشارہ ہے۔ کسی جگہ پہ آپ کو محسوس ہو کہ جمود آگیا ہے چیزیں رک گئی ہیں، گلنا سڑنا شروع ہوگئی ہیں اور خاص طور پر جب معاشرے اپنی سمت کھو دیتے ہیں تو اس صورت میں ایک فکر جنم لیتی ہے۔ اس کے اندر ایسے باکردار اور حوصلہ مند لوگ شامل ہوتے ہیں جو قوم اور ملت کا درد رکھتے ہیں۔ وہ اس پر سوچ بچار کرتے ہیں کہ اس جمود سے نکلا کیسے جائے۔ اس جمود سے نکلنے کے لیے تحریک بنائی جاتی ہے اور یوں تحریکیں جنم لیتی ہیں۔ اور ایسا کرنے کے قابل وہ لوگ ہی ہوسکتے ہیں جن کے اندر اچھی سوجھ بوجھ اور علم و بصیرت ہو اور ان کو اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہوتاہے۔ ہر انسان کوئی سوچ سوچنے کے بعد اس پر عمل پیرا نہیں ہوسکتا۔ مثال کے طور پر قائداعظم محمد علی جناح جو ایک اعلیٰ سوچ کے مالک تھے اور اپنی زندگی کو اچھے سے گزار رہے تھے۔ اپنے شعبے میں شہرت رکھتے مگر اللہ تعالیٰ نے ان سے ایک مملکت کا قیام کروانا تھا تو ان کی سوچ اور بصیرت کو اس مقصد کی طرف پھیر دیا۔ یہ جو سوچ کا سفر شروع ہوتا ہے یہاں سے کسی بھی حرکت کا آغاز ہوتا ہے تو انسانی دماغ جب سوچتا ہے اور اس سوچ سےتھوڑا آگے بڑھتا ہے توفقط اپنی ذات کے لیے سوچ رہا ہے اور جیسے ہی وہ اپنی ذات سے نکل کر دوسروں کے لیے سوچتا ہے تو بنیادی طور پر کسی بھی تحریک کا ابتدائی مرحلہ یہاں سے جنم لیتا ہے۔
ڈاکٹر فرح ناز: تحریک کے معنی حرکت کے ہیں۔ یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ کسی تحریک کی اہمیت کیوں ہوتی ہے؟ اس کی ابتدا کیوں ہوتی ہے؟ انسانی دماغ سوچنے کی ایک مشین ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی جو تخلیق کی ہے اس کی فطرت اور اس کے دماغ کو سمجھنا ضروری ہے کیونکہ انسان ہر وقت سوچتا رہتا ہے۔ اسی طرح انسانی فطرت ہمیشہ سے کوشش اور محنت میں مصروف ہے۔ انسانی تاریخ اٹھاکر دیکھ لیں تو انسان ہمیشہ بہتر سے بہتری کی تلاش میں ہے۔ یہ اس کی کاوش اپنی بقا کے لیے بھی ہوسکتی ہے، اپنی بھوک مٹانے کے لیے بھی ہوسکتی ہے، یہ علم کے حصول کے لیے ہوسکتی ہے۔ یہ انسان کی اپنے کردار کی تعمیر کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔ محنت اور ہر وقت سوچنے کا ماڈل انسان کو بنایا۔
عائشہ مبشر: تحریک پاکستان اور تحریک منہاج القرآن کا تسلسل کیا ہے؟
بریگیڈیئر (ر) اقبال احمدخان: اگر ہم نظر دوڑائیں ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے والد ڈاکٹر فریدالدین قادریؒ نے تحریک پاکستان کے اندر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ وہ قائداعظمؒ سے ملے اور ان کے ساتھ کام بھی کیا۔ ڈاکٹر فریدالدین نے جو کاوشیں پاکستان کی بنیاد بنانے میں کیں تو جب وطن پر زوال آیا اور قوم و امت زبوں حالی کا شکار ہوئی تو ان کے فرزند نے قوم کو جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے ایک بہترین لیڈر کا کردار ادا کرتے ہوئے ایک تحریک کی بنیاد رکھی جس کے مقاصد یہ تھے کہ ایک عام آدمی کو اپنی ہستی سے روشناس کروایا جائے اور اس کا مقصد حیات اسے یاد کروایا جائے اور ان کی زندگیوں کو ایسے خطوط پر استوار کیا جائے جس میں وہ اپنی اور قوم و امت کی فلاح کی طرف گامزن ہوں۔
ڈاکٹر فرح ناز: تحریک منہاج القرآن کا بہت گہرا تعلق ہے تحریک پاکستان کے ساتھ کیونکہ تحریک پاکستان ایک خاص نظریئے کی بنیاد پر قائم کی گئی اور اس نظریہ اور مقصد میں ڈاکٹر فریدالدین قادریؒ کا اہم کردار ہے جس کو تسلیم بھی کیا جارہا ہے تو ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے جب یہ دیکھا کہ ایک ایسا خطہ جو ایک خاص مقصد کے لیے حاصل کیا گیا ہے۔ جس کا قانون اللہ کی حاکمیت کے مطابق بنایا گیا ہے۔ جب انھوں نے اپنی آنکھوں سے اس خطہ میں جو ایک مقصد کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ اس کا نفاذ ہوتے ہوئے نہ پایا اورجو قوانین اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کے مطابق بنائے گئے ان کے نافذ العمل نہ ہونے کی تکلیف ہی منہاج القرآن کے آغاز کا باعث بنی تو اس صورت میں تحریک منہاج القرآن تحریک پاکستان کی ایک کڑی ہے۔
عائشہ مبشر: تحریک منہاج القرآن کیا ہے؟ اور اس کو قائم کرنے کے پیچھے کون سے محرکات شامل ہیں؟
ڈاکٹر فرح ناز: آپ کے سوال کے بنیادی طور پر دو حصے ہیں۔ پہلا سوال کہ منہاج القرآن کیا ہے؟ اور دوسرا تحریک منہاج القرآن کے محرکات کیا ہیں۔ پہلا سوال تحریک منہاج القرآن کیا ہے اس کے تین اصول ہیں۔ پہلا اصول نہ تو مذہبی فقہ ہے اور نہ ہی کوئی گروہ ہے نہ ہی کوئی پیشہ ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی، حمایتی یا کوئی عمومی جماعت ہے۔ دوسرا اصول منہاج القرآن کی فکر اور نظریہ کسی خاص خطے یا جغرافیائی علاقے کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی کسی خاص رنگ و نسل کے لیے ہے بلکہ منہاج القرآن کی فکر ایک عالمگیر فکر ہے۔ تیسرا اصول منہاج القرآن کی سمت اور گول بالکل واضح ہے یہ نہ تو فلاحی کام ہے اور نہ ہی تصنیفی کام ہے۔ محض تحقیقی بھی نہیں ہے اور نہ ہی سماجی ہے۔
بریگیڈیئر (ر) اقبال احمد خان: میری نظر میں تحریک منہاج القرآن ایک نظریاتی، فکری اور فلاحی آرگنائزیشن ہے جس کے اندر بلا تفریق ہر دین و مذہب کے لوگوں کے لیے فلاح ہے اور بالخصوص مسلمانوں کے لیے راستہ نجات ہے اور آخرت کی تیاری کا ذریعہ ہے۔ اگر کوئی اس تحریک سے مستفید ہونا چاہے تو یہ زندگی کے ہر مرحلے میں معاون ثابت ہوگی۔ نیز ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی تصانیف بھی زندگی کے ہر مرحلے میں مسائل کا حل پیش کرتی نظر آتی ہیں۔
ڈاکٹر فرح ناز: لغت کے اعتبار سے منہاج القرآن کا معنی ہے قرآن کا راستہ تحریک منہاج القرآن کی بنیاد شیخ الاسلام نے 17 اکتوبر 1980ء میں قرآن مجید کے اس انقلابی نظریہ پر رکھی جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور انسانیت کو عروجِ کمال تک پہنچانے کا واضح راستہ ہے۔ منہاج القرآن کی تعریف منہاج القرآن قرآن مجید کا دیا گیا وہ راستہ ہے جس میں زادِ راہِ عشق رسولﷺ ہے اور اس کی منزل رضائے الہٰی اور اخروی فلاح ہے اور اس کا ذریعہ افراد کی اور انسانوں کی سیرت سازی ہے۔ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں قرآن مجید کے دیئے گئے اصولوں کے مطابق پروگرام اور منصوبہ جات تیار کیے جاتے ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں دین کو اپنا معیار بنانے کی فہرست تیار کی جاتی ہے۔
یاد رکھئے کہ اسلام تنہا زندگی گزارنے کا درس نہیں دیتا بلکہ اسلام Socialization کے تصور پر کھڑا ہے اور اسلام کے اسی تصور کو بنیاد بناتے ہوئے تحریک منہاج القرآن نے پوری دنیا میں اسلام کو پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ منہاج القرآن کی منزل غلبہ دین حق ہے۔
سیشن : 2 ہوسٹ: عائشہ مبشر
عنوان: ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کون ہیں؟
مہمانانِ قدر: محترم خرم نواز گنڈا پور (ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل)، محترمہ ڈاکٹر فرح ناز (صدر منہاج القرآن ویمن لیگ)
عائشہ مبشر: کسی بھی تحریک کے لیڈر/ رہنما کے ذاتی اوصاف کیا ہوسکتے ہیں؟
خرم نواز گنڈا پور: مسلم امہ کے لیڈر کے بنیادی اوصاف کی عکاسی علامہ اقبال کا یہ شعر کرتا ہے:
نگاہ بلند، سخن دلنواز جاں پر سوز
یہی ہے رختِ سفر میر کارواں کے لیے
یہاں نگاہ کی بلندی سے مراد ایک لیڈر کی صفت بصیرت ہے یعنی وہ قوم کی حالت دیکھ کر اس کی منزل کا تعین کرتا ہے اور غور کریں تو یہی صفت قائد محترم کی زندگی میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ نے اوائل عمری میں ہی ایک مکمل ضابطہ حیات اور ایک منزل کا تعین کرکے اس کے راستے کا خاکہ دے دیا۔ سخن دلنواز ہونا اہم صفت ہے اور اگر دیکھا جائے حضور سیدی شیخ الاسلام نے تحریک شروع کرنے سے قبل ہی اپنے سخن دلنواز سے تمام لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا تھا اور وہ ایک پورا دور تھا جب اتفاق مسجد میں محض آپ کو سننے کے لیے دور دراز سے لوگ آتے تھے۔ جاں پر سوز کے تین درجات ہیں:
1۔ ایک رہنما دردِ امت رکھتا ہو۔
2۔ ایک رہنما اپنے کارکنان کا درد رکھتا ہو۔
3۔ اپنی اولاد کا درد رکھتا ہو۔
دیکھا جائے تو اولاد کا درد ہر ایک کے سینہ میں ہے لیکن میں جو سمجھتا ہوں کہ درد وہ ہے کہ آپ اپنی اولاد کو نہ صرف اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑا ہوسکیں بلکہ اس قابل بھی بنائیں کہ وہ ایک اچھے شہری بھی ہوں اور بہترین مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے اندر بصیرت بھی پیدا کی جائے۔ اگر ایک میر کارواں کے لیے یہ اوصاف ہوں تو تب ہی وہ اپنی تحریک کے لیے میر کارواں بن سکتا ہے۔
ڈاکٹر فرح ناز: لیڈر بنیادی طور پر ایک کرشماتی فرد ہوتا ہےاور اس کی کرشمہ سازی یہ ہے کہ وہ اپنی فکر، سوچ اور درد کو بیان کرنے کی صلاحیت اور بہت سارے لوگوں کو ایک مقصد کے لیے متحرک رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ میری نظر میں ایک لیڈر میں دو خوبیاں بہت اہم ہیں۔
1۔ تخلیقی صلاحیت
2۔ نظم و ضبط
جس لیڈر میں یہ دو خوبیاں پائی جائیں وہ کبھی ناکام نہیں ہوسکتا۔ Creativity کا لفظ جب ہم بچوں کے لیے استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے لیکن جب ہم ایک لیڈر کو Creative کہہ رہے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ لیڈر بند راستوں کو کھولنے کی کنجی کا مالک ہو۔ اگر اس کے راستے میں کوئی بند راستہ آجائے تو وہ رکنے کی بجائے اپنے قافلہ کو ساتھ لے کر چلنے اور بند راستے کو کھولنے کا ملکہ رکھتا ہو۔ خود بھی متحرک رہے، منزل اس کے سامنے واضح ہو اور راستے میں آنے والے مسائل اور چیلنجز کا حل جانتا ہو اور ان سے نبرد آزما ہونے کی حکمت بھی جانتا ہو اور ساتھ چلنے والے قافلے کو اسی یقین کے ساتھ متحرک اور مجتمع رکھے۔
بہت سے لوگ تخلیقی صلاحیت کے مالک تو ہوتے ہیں مگر وہ کچھ حاصل نہیں کرپاتے اگر آپ کی شخصیت میں Creativity کے ساتھ نظم و ضبط ہو تو وہ کبھی بھی منزل پر پہنچنے میں اور کوشش کے بعد نتیجہ خیزی میں ناکام نہیں ہوسکتا۔
عائشہ مبشر: امت مسلمہ کی نشاۃِ ثانیہ کے لیے ایک قیادت کی خصوصیات کیا ہونی چاہئیں؟
خرم نواز گنڈا پور: اگر نشاۃ ثانیہ کے حوالے سے دیکھا جائے تو یہ ایک مسلمان رہنما کے ساتھ خاص ہوجاتی ہیں کہ ایک مسلمان رہنما میں اس کی بنیادی خصوصیات کے علاوہ کون سی خصوصیات ہونی چاہیے۔
سب سے پہلے جو فکر اور سوچ دوسروں میں منتقل کرنی ہے اس پر خود عمل کرنا ضروری ہے۔ حضورﷺ قبل از نبوت بھی اپنی امانتداری اور صداقت جیسی صفات میں کامل ترین تھے کہ کفار مکہ کوئی سوال نہ کرسکتے تھے۔ اس لحاظ سے ایک قائد کے لیے ایک اچھے اور باعمل مسلمان کی خوبیاں ہونا ضروری ہیں۔ اس کے بعد اسلام کی مکمل تاریخ کا علم ہونا اور اس میں پیش آنے والے معاملات مدو جزر کے ساتھ معلوم ہوں اور اس میں آنے والی کامیابی اور ناکامی کی کیا وجوہات تھیں؟ اگر یہ ایک قائد کو معلوم ہوں تو وہ لامحالہ اپنے قافلہ کو ماضی کے حالات کے مطابق لے کر چل سکتا ہے۔ دوسری چیز علم ہے جب تک امت مسلمہ کے قائد کو اسلامی علم پر عبور حاصل نہیں ہوگا تو وہ ملت اسلامیہ کو لیڈ کرنے کے قابل نہیں ہوگا۔ تیسری چیز کردار کی پختگی ہے۔ ان کی پوری زندگی شفاف کتاب کی طرح ہونی چاہیے۔
ڈاکٹر فرح ناز: بنیادی طور پر نشاۃ ثانیہ کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاسکتی ہے جب کوئی چیز مٹ چکی ہو اور نشاۃ ثانیہ کے لیے ایک لیڈر دین کا علم اور اس کا استعمال اور حالات کے تقاضوں کو جانتا ہو اور دور حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق دین کو ڈھالنے والا ہو یعنی وہ لیڈر تجدیدی صلاحیتوں کا مالک ہو اور دین کا انطباق دنیا کے ساتھ کرنے کے قابل ہو تو ہم نشاۃِ ثانیہ کی امید رکھ سکتے ہیں۔
عائشہ مبشر: آپ کی نظر میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی انتظامی و سیاسی شخصیت کیسی ہے؟
خرم نواز گنڈا پور: تحریک منہاج القرآن کے اوائل دور میں شیخ الاسلام نے سارے انتظامات و معاملات خود سنبھالے یہاں تک کہ تحریک منہاج القرآن کا آئین آپ نے اپنے ہاتھ سے خود تحریر کیا لیکن آہستہ آہستہ تحریک کے مختلف فارمز بننے کے ساتھ ساتھ آپ نے انتظامی معاملات متعلقہ افراد کے سپردکردیے یہ فارمز مثلاً ویمن لیگ، منہاج یوتھ لیگ وغیرہ اپنے فارم کا انتظام خود سنبھالے ہوئے ہیں۔ اور یہ ٹیمز آپ کی سرپرستی اور مشاورت سے چلتی ہیں۔
سیاسی پہلو آپ کی شخصیت کا یہ ہے کہ آپ کسی ایک مسلک کے حق میں نہیں شروع سے آپ کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اس کے علاوہ پاکستان کے لیے آپ کی فکر، سوچ جو بھی ہے وہ قومی پسندیدگی (National Interest) پر مبنی ہے۔ آپ کا 35 صوبوں کا وژن یہ ہے کہ لوگ بآسانی اپنے متعلقہ اداروں سے رابطہ کرسکیں گے اور آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایسا ہونا چاہیے جو کہ امت مسلمہ کا لیڈر بننے کے قابل ہوجائے۔ یہ وژن آپ کی انتظامی و سیاسی بصیرت کا عکاس ہے۔
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام کی شخصیت کا تحقیقی پہلو کیا ہے؟
ڈاکٹر فرح ناز: شیخ الاسلام امت مسلمہ کی امید ہیں اور نظریۂ تبدیلی نظام پاکستان کے بانی ہیں۔ آپ نے تحقیق کی نت نئی جہتیں متعارف کروائیں۔ آپ امت کی علمی و تاریخی وراثت کے درہِ سنام ہیں۔ آپ نے ایک کمزور قدم کے اندر طاقت پیدا کی اور بے سمت امت کو عظیم اور بلند نصب العین عطا کیا ہے۔
آپ کے سیاسی نقطہ نظر کی بنیاد بے لوث خدمت ہے، مفاد پرستی والی سیاست نہیں ہے اور دوسرا اہم عنصر ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہے۔ آپ کا پورا تصور انقلاب کا بنیادی نقطہ اجتماعی نظام عدل سیاست پر ہے۔ آپ کے نزدیک شخصی پہلوؤں میں نمایاں صادق اور امین ہیں۔ آپ ہی کی وہ شخصیت ہے جس نے پاکستان میں ان دو پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے اور زیرِ بحث لائے۔
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام کی عائلی زندگی کیسی ہے؟ اور معاشرے کو کیا معیار دیتی ہے؟
ڈاکٹر فرح ناز: ایسی عظیم ہستیوں کا پیدا ہونا اور پروان چڑھنا تقدیر کا فیصلہ بھی ہوتا ہے اور انسان کی تدبیر بھی ہے۔ شیخ الاسلام کی عائلی زندگی ایک بہت بڑامعیار دیتی ہے۔ آپ کی حیات کا جائزہ لیں تو آپ ایک شوہر، ایک بھائی، ایک باپ، ایک سسر، ایک دادا کی حیثیت سے اپنے حقوق و فرائض کو نہایت ہی احسن اور عمدہ طریقے سے نبھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آپ کی زندگی میں نہایت اہم عنصر قربانی کا ہے۔ خواہ وہ مشن کے لیے یا زندگی کے کسی دوسرے پہلو میں دوسری اہم چیز ان کے خاندان میں ایک دوسرے کی عزت کرنا بہت ہی خوبصورت عنصر ہے اور اسی طرح مشاورت ہے۔
عائشہ مبشر: ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا اپنے کارکنان کے ساتھ جو تعلق ہے اسے آپ کیسا دیکھتے ہے؟
خرم نواز گنڈا پور: کسی بھی تحریک کے اوائل دور میں لیڈر کا اپنے کارکنان کے ساتھ بہت ملنا جلنا ہوتا ہے لیکن آہستہ آہستہ مصروفیات میں ضم ہوجاتا ہے۔ لیڈر شپ کا کمال ہوتا ہے کہ آپ کا رابطہ اپنے کارکنان سے نہ ٹوٹے۔ شیخ الاسلام کی زندگی میں کارکنان سے ملنا جلنا ابھی تک قائم ہے جبکہ تحریک منہاج القرآن باکمال عروج پر ہے۔
آپ کا شہداء انقلاب کے خاندانوں سے ملنا گاہے بگاہے دیکھا جاسکتا ہے۔ کسی کی بھی علالت یا وفات پر حتی الوسع آپ خود ان سے گفتگو فرماتے ہیں۔ یہ سیدی شیخ الاسلام کی یادداشت اور توجہ کا کمال ہے کہ آپ کے تحریک کے وسیع معاملات، اسفار اور کتابت و خطابت کے دوران بھی آپ اپنے کارکنان کو ہمیشہ یاد رکھے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر فرح ناز: آپ کا اپنے کارکن کے ساتھ تعلق محبت اور اعتماد والا ہے اور یہ محبت و اعتماد ان کے تعلق کی خصوصیات ہیں۔ آپ کے قلم کے اپنے شاہکار ہیں، آپ کے تکلم کی اپنی داستان ہے اور آپ کے مضمون میں ایک نئی دنیا ہے پھر بھی آپ کی کارکنان کے لیے محبت، آپ کا وقت نکالنا اور خصوصاً بیٹیوں کے ساتھ آپ کی محبت و شفقت کا پہلو حضورﷺ کی سیرت کا عکس دکھاتا ہے۔ آپ کے ہر تعلق میں نظم ہے۔ بے تکلفی ہے بے لحاظی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایک قائد ہوتے ہوئے آپ فکر مندی اور خصوصی توجہ کے ساتھ بچیوں کی تربیت اور ازدواجی زندگی کے تعلق کو بہتر بنانے کی کاوش کا فریضہ بھی ایک باپ کی طرح نبھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سیشن: 3 ہوسٹ: عائشہ مبشر
عنوان: ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کون ہیں؟
مہمانان: خرم نواز گنڈا پور(ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل)، ڈاکٹر فرح ناز(صدر منہاج القرآن ویمن لیگ)
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام کی زندگی کا سماجی پہلو پر ہمیں کچھ بتائیں؟
خرم نواز گنڈا پور: ہمارے آج کے دور میں بدقسمتی سے سماج اور اخلاقیات کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور کیا جاچکا ہے، تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کی کوئی ایک کتاب موجود نہیں، والدین اپنے بچوں کو اخلاقیات نہیں سکھاتے مگر شیخ الاسلام کی شخصیت کا امتیاز یہ ہے کہ آپ نے اخلاقیات میں سے سب سے پہلے طرز تکلم پر زور دیا۔ یہ صرف آپ کے خاندان میں یا آپ کی اپنی زندگی میں نہیں تھا بلکہ آپ کارکنان کو بھی اچھی گفتگو کی تلقین فرماتے ہیں۔ منہاج القرآن کے افراد جب بھی کسی محفل میں بیٹھے ہوں گے تو ان کا انداز گفتگو سب سے مختلف ہوگا اور یہی شیخ الاسلام کی چھاپ ہے جو انھوں نے اپنے کارکنان اور خصوصاً طلبہ و طالبات خواہ وہ شریعہ کالج آف سائنسز ہو یا منہاج کالج برائے خواتین ہو سب میں پائی جاتی ہے۔
سماجی ذمہ داریوں کے بارے آپ نے آگہی دی کہ بطور انسان اور بطور مسلمان آپ اپنے اور اپنے خاندان کے ذمہ دار ہی نہیں بلکہ اپنی پوری Society کے ذمہ دار ہیں۔ تحریک منہاج القرآن کی جب بھی آپ بات کرتے ہیں تو فقط ایک مذہب، ایک تحریک یا ایک مسلک کی نہیں بلکہ پوری انسانیت اور امت مسلمہ کے سماج کی بات کرتے ہیں۔
شیخ الاسلام Inter faith dialogue کے بانیان میں سے ہیں۔ آپ ہمیشہ پوری دنیا کو امن کے ساتھ اور یکجہتی کی زندگی گزارنے کا پیغام سناتے ہیں۔ ہم وہ پہلا وفاق ہوں گے جو اخلاقیات کو اپنے تعلیمی نصاب میں شامل کرچکے ہیں۔
ڈاکٹر فرح ناز: کسی بھی شخصیت کا اللہ کے ہاں مقرب ہونا اس کی سماجی زندگی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جتنی بڑی شخصیات کو دیکھا اور پڑھا جائے تو دیکھنے میں آتا ہے کہ جیسے جیسے وہ درجہ بدرجہ ترقی حاصل کرتے ہیں ان کی سماجی زندگی اتنی ہی محدود ہوتی چلی جاتی ہے لیکن شیخ الاسلام کی شخصیت کو دیکھا جائے تو آپ کی پوری زندگی سماج پر بھی چھائی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور پوری سماجی زندگی کے اصول بھی دیتی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا ایک قول اس ضمن میں بہت اہم ہے آپؓ نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو اپنے دین کے لیے دنیاکو چھور دے۔
شیخ الاسلام کی سماجی زندگی کے چند ایک پہلو یہ ہیں کہ: آپ فرماتے ہیں کہ گناہ سے نفرت کرو، گناہگار سے نہیں۔ آپ کو ان کی محفل اور حلقہ میں ہر طرح کے لوگ ملیں گے۔ اس کےعلاوہ درگزر، محبت، شفقت، آپ کی زندگی ایک سمندر کی مانند ہے اور ہر کوئی اس سے مستفید ہورہا ہے۔ آپ کی سماجی زندگی اخلاقیات پر بنیادرکھے ہوئے ہے۔
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی زندگی کا روحانی پہلو کیسا ہے؟
ڈاکٹر فرح ناز: انسان کی زندگی میں روحانی پہلو بہت نمایاں کردار ادا کرتا ہے اور دین سے جوڑتا ہے۔ جیسا کہ اگر دیکھا جائے تو امام غزالیؒ نے دین کی تعبیر میں روح کو بنیادی موضوع بنایا۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس کی سیاسی تعبیر کی۔ شیخ الاسلام کو اس اعتبار سے دیکھیں تو آپ نے دین کی روحانی تعبیر بھی کی اور سیاسی تعبیر بھی کی۔ آپ کے روحانی نظریہ میں انسانی جسم یا شخصیت کا مرکزی مقام اس کی روح ہے اور اس تعبیر میں آپ نے قلب کو بنیادی موضوع بنایا۔ آپ نے قلبی اصلاح، نیت کی اصلاح پر خاص توجہ دلائی۔ قلب کی تربیت میں آپ نے محبت و اخلاص کا فلسفہ اپنایا۔
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام کی علمی و تحقیقی کاوشوں کی نوعیت کیا ہے؟
ڈاکٹر فرح ناز: کسی بھی شخصیت کی دین کے لیے کاوشوں کو دیکھنا ہو تو اس کی علمی و تجدیدی کاوشیں اس کی عکاسی کرتی ہیں۔ شیخ الاسلام کے تحقیقی کام کا خاصہ یہ ہے کہ آپ نے دین کل اور شریعت محمدیﷺ کو آسان کرکے لوگوں تک پہنچایا۔ آپ نے تجدید دین کو دور حاضر کے مسائل کے ساتھ منطبق کرکے پیش کیا۔ آپ کے بارے میں اگر کہا جائے کہ آپ مجمع البحور ہیں تو یہ غلط نہ ہوگا۔ آپ نے علم کی روایت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کو علم کی اصل سے بھی جوڑ دیا ہے۔ آپ کی تحقیق میں موضوع کی ترجیح دور حاضر کے فتنہ کے مطابق ہوتی ہے اور باطل عقائد کا قلع قمع پختہ دلائل سے کرتے ہیں۔ آپ کی تصنیفات میں قدیم اور جدید دونوں روایات کا ایک حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔
عائشہ مبشر: ایک فرد سے تحریک اور اُس تحریک سے ہمہ جہت عالمگیر تحریک کیسے بن سکتی ہے؟
خرم نواز گنڈا پور: جو لوگ تاریخ رقم کرتے ہیں یا تاریخ میں یاد رکھے جاتے ہیں وہ اپنے اندر اتنا کچھ لیے ہوئے ہوتے ہیں کہ جو ان کے اندر سما نہیں سکتا اور پھر باہر لوگوں تک اچھل اچھل کر آجاتا ہے۔ اب یہ اثر شر بھی ہوسکتا ہے یا خیر بھی یہ اپنے نصیب اور اپنی سوچ کی بات ہے۔ لیکن جب آپ کسی خیر کے کام کے لیے سرگرداں ہوتے ہیں تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے اور وہ دوسروں تک پھیلتا ہے۔ اسی طرح قائدمحترم نے ایک کمرہ سے یہ تحریک شروع کی اور پھر یہ ایک عالمگیر تحریک بن گئی جو لوگ اپنے مشن کے لیے اور لوگ تیار نہیں کرتے ان کی بنائی گئی تحریکیں فرد کے ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں۔
ڈاکٹر فرح ناز: جو تحریک دور حاضر کے مسائل و ابحاث کو مدنظر رکھےہوئے ہوتی ہے وہ اتنی ہی عالمگیر ہوتی چلی جاتی ہے۔ جو تحریک بند راستوں اور انسانی ضروریات کو Address کرے گی وہ اتنی ہی ہمہ جہت ہوگی۔ اگر دینی تحریک کے حوالے سے دیکھا جائے تو جو تحریک دنیا میں دین کو فائدہ مند، نفع بخش ثابت کرے گی وہ قیامت تک چلتی رہے گی۔ شیخ الاسلام وہ شخصیت ہیں کہ جنہیں ان کی اپنی زندگی میں ان کی خدمات کا اعتراف اور آگے بڑھتی ہوئی تحریک ملی ہے۔
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام نے تحریک منہاج القرآن کی نسلوں میں منتقلی کا کیا لائحہ عمل دیا ہے؟
خرم نواز گنڈا پور: آپ کے اس بہترین سوال کا جواب یہ ہے کہ اس امر کے دو پہلو ہیں۔ اخلاقی پہلو اور علمی پہلو۔ قائد محترم نے اپنی تحریک کے لیے ایک مشاورتی لیڈر شپ کا نظریہ دیا ہے۔ لوگ اپنی تربیت کا مرکز و محور اپنی اولاد کو بناتے ہیں لیکن شیخ الاسلام نے جہاں منہاجینز کی شکل میں ایک کثیر التعداد کی ٹریننگ کی بلکہ تمام امت مسلمہ اور اپنی اولاد پر اتنی توجہ دی کہ انہیں اگلی لیڈر شپ کے لیے تیار کیا اور خود اپنی تحریک کی وراثت کے لیے ساری دنیا اور معاشرتی تعلقات سے تھوڑا دور ہوکر دین کی خدمت کے لیے وقف ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹر فرح ناز: یہ جو تحریک ہے یہ اگلی کئی نسلوں تک شیخ الاسلام کی فکر کولیڈ کرے گی۔ وہ فکر جس میں بھی پائی جائے گی خواہ وہ آپ کے بیٹے ہوں یا کوئی رفیق کار، وہ اسے آگے لیڈ کرسکے گا۔ آپکی مستقبل کی لیڈر شپ کو خاص Macanism اور چند اصولوں کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔ اصولوں میں تین چیزیں واضح ہیں دینی و عصری تعلیم، اخلاقی وجود اور روحانی تربیت۔ اس کے علاوہ قائد انقلاب ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کسی بھی تحریک کی لیڈر شپ کی سطحیں اور صلاحیتوں پر ایک آئین لکھ کر اپنے کارکنان اور مستقبل میں تحریک کے آنے والے لیڈرز کے ہاتھوں میں تھمادیا ہے۔ جس سے راہنمائی حاصل کرتے ہوئے آنے والے لیڈرز اور قائدین با آسانی تحریک کو لے کر چل سکتے ہیں۔
سیشن: 4 ہوسٹ: عائشہ مبشر
عنوان: منہاج القرآن کی رفاقت ہی کیوں؟
مہمانان گرامی قدر: عائشہ شبیر(ڈائریکٹر منہاجینز)
علامہ رانا محمد ادریس (نائب ناظم اعلیٰ سنٹرل پنجاب)
عائشہ مبشر: رفاقت کیا ہوتی ہےاور اس کی حقیقت کیا ہے؟
رانا محمد ادریس: رفاقت کا لفظی معنی سنگت اور ساتھ ہے۔ بنیادی طور پر انسان ایک معاشرتی حیوان ہے جو تنہا نہیں رہ سکتا۔ جب اس دنیا میں آئے گا تو کوئی نہ کوئی صحبت اور سنگت اختیار کرے گا اور وہ صحبت اچھی بھی ہوسکتی ہے اور بری بھی اور اچھی سنگت دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اللہ رب العزت چونکہ ہمارا خالق و مالک ہے وہ جانتا ہے کہ ہماری کامیابی کا راز کس میں ہے اور اللہ نے جابجا قرآن میں صحبت اور سنگت کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ’’ اور جو کوئی اللہ اور رسول (ﷺ) کی اطاعت کرے تو یہی لوگ (روزِ قیامت) ان (ہستیوں) کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے (خاص) انعام فرمایا ہے جو کہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین ہیں اور یہ بہت اچھے ساتھی ہیں۔ ‘‘(النساء: 69) یہاں لفظ رفیق سے رفاقت کا لفظ اخذ کیا گیا ہے رفیق ساتھی اور رفاقت، سنگت ہے۔
ایک اور مقام پر اللہ نے رفاقت اور سنگت کی طرف متوجہ کیا ہے فرماتا ہے: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔ اسی طرح پوری سورۃ کہف صحبت اور سنگت کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہے۔
عائشہ شبیر: اللہ رب العزت نے ہمیں اجتماعیت کے ساتھ پیدا کیا ایک طرف خیر کی صحبت و سنگت رکھی اور دوسری طرف شر کی۔ اس لیے ہمیں کوئی ایک گروہ مخصوص کرنا ہے جس کے لیے اللہ نے ہمیں خود ایک دعا سکھادی۔ اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ اس میں اللہ رب العزت نے رفاقت کے بغیر کامیابی کو ناممکن بنادیا اور ہمارے سامنے صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ لا عَلَیْہِمْ کہہ کر دو راستے دے دیئے اور پھر شعور کے ذریعے ہمارے لیے صحیح راستے کا انتخاب ممکن بنایا۔
عائشہ مبشر: تحریک منہاج القرآن کی رفاقت کیا ہے؟ اور اس رفاقت کا انتخاب ہی کیوں؟
رانا محمد ادریس: دنیا میں دوسری مختلف تحریکات کی طرح منہاج القرآن بھی نیکی کے کام کرتا ہے لیکن اس کا امتیاز اور خاصہ یہ ہے کہ اس صدی میں جب دین محمدی اور امتِ مصطفیﷺ زوال کا شکار ہے تو واحد تحریک، تحریک منہاج القرآن ہے جو غلبہ دین کی فکر میں مبتلا ہے اور یہ ایسا کام ہے جو ساری نیکیوں پر حاوی ہے۔ اللہ رب العزت نے فرمایا:
هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَی الدِّیْنِ كُلِّهٖ ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ
(التوبہ: 33)
’’ وہی (اللہ) ہے جس نے اپنے رسول (ﷺ) کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا تاکہ اس (رسول ﷺ) کو ہر دین (والے) پر غالب کر دے اگرچہ مشرکین کو برا لگے۔ ‘‘
یہ آیت کریمہ بتاتی ہے کہ اللہ کا منشاء یہ ہے کہ اللہ نے جو دین حق عطا کیا اسے باطل قوتوں پر غالب کیا جائے اور اس میں سب سے پہلا کردار حضورﷺ نے ادا کیا۔ آپﷺ نے ہزارہا مصائب و مشکلات کے بعد آخر کار دین حق کو غالب کرکے ہمیں اسوہ عطا فرمادیا۔ اب جب ہم اللہ کی رضا کی خاطر اس کے دین کی سربلندی کے لیے حضورﷺ کے نقش قدم پر چل کر اس کی اطاعت کو بجا لائیں گے تو یہ بہترین عبادت ہے اور کروڑ نفلی عبادتیں بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ اور یہ اتنے پر عزم اور پروقار انداز میں رضائے الہٰی کی خاطر کیا جانا فقط تحریک منہاج القرآن سے ہی نظر آتا ہے۔
اور اگر دیکھا جائے تو اس کام کے لیے آپ کو دین کا فہم اور آپ کی زندگی میں دین پر باعمل ہونا بہت ضروری ہے بہت سے غلبہ دین کا نام لینے والے حادثاتی لیڈر بن جاتے ہیں مگر شیخ الاسلام وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ نے اس صدی میں پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ دین اور امت پر آنے والے زوال کو ان کے ذریعے عروج میں بدلا جائے۔ آپ کوئی حادثاتی لیڈر نہیں بلکہ آپ وہ ہستی ہیں جن کی ولادت سے قبل مقام ملتزم پر ان کی ولادت کی دعا کو دین کی سربلندی کے ساتھ خاص کردیا گیا تھا۔ اللہ نے انہیں خاص مقصد کے تحت پیدا کیا۔ جو لوگ اس تحریک سے وابستہ ہوجاتے ہیں وہ لوگ عظیم مقصد کے ساتھ عظیم رفاقت پاتے ہیں۔
عائشہ مبشر: تحریک منہاج القرآن نوجوان نسل کے لیے کس طرح فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے؟
عائشہ شبیر: اس دور پرفتن میں ہر کوئی نیکی کرسکتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ نیکی کا حکم بھی دو اور باطل کو رد بھی کرو، باطل کے خلاف تلوار بھی بنو، تو یہ وہ اہم کام ہے جو تحریک منہاج القرآن کرتی ہے اور دنیا کی کامیابی اور سربلندی کی دوڑ میں نوجوان نسل کو فکر آخرت دینا تحریک منہاج القرآن کے علاوہ کسی دوسری تحریک کا طرہ امتیاز نہیں۔
عائشہ مبشر: تحریک منہاج القراان کی رفاقت کو زرِ تعاون کے ساتھ متصل کیوں کیا گیاہے؟
رانا محمد ادریس: رفاقت کو زرِ تعاون کے ساتھ متصل کرنے کے کئی پہلو ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ رب العزت فرماتا ہے: ’’ اور نیکی اور پرہیزگاری (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم (کے کاموں) پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔ ‘‘(المائدۃ: 2)
جب ہم زرِ رفاقت دیتے ہیں تو ایک بہت بڑے کام میں ہمارا تعاون ہوتا ہے۔
مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً ؕ
(البقرہ، 2: 245)
’’کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے پھر وہ اس کے لئے اسے کئی گنا بڑھا دے گا۔ ‘‘
یہ قرض حسنہ ہے اللہ کے لیے کہ اس کے دین کی سربلندی کے لیے خرچ کیا جائے خواہ وہ وقت ہے، صلاحیت ہے یا علم۔ اور اس قرض حسنہ پر اللہ دوگنا چوگنا عطا کرے گا۔
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ؕ
(البقرہ، 2: 261)
’’جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) ‘‘
2۔ دوسرا پہلو جب ہم زر تعاون دیتے ہیں تو یہ خود ہی اس شخص پر خرچ ہوجاتا ہے مجلہ منہاج القرآن یا دختران اسلام کی شکل میں اور جب کوئی شخص خرچ کرتا ہے تو اس کے اندر سے کنجوسی بھی ختم ہوتی ہے اور وہ سخاوت کی طرف نکل جاتا ہے یوں اس کے کردار کی تشکیل ہوتی ہے۔ یہ پہلو، یا زر رفاقت یا تعاون سیرت النبیﷺ میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ آپﷺ جب بھی غزوہ پر تشریف لے جانے کا ارادہ فرماتے تو اعلان کرواتے کہ خدا کی راہ میں جو چاہے جتنا چاہے پیش کرے۔
عائشہ مبشر: عہد نامہ رفاقت میں کس طرح دنیاوی و اخروی فوائد مجتمع ہیں؟
رانا محمد ادریس: رفاقت فارم پر عہد نامہ ایک قرآنی آیت کی شکل میں لکھا ہوا ہے۔
قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ
(الانعام: 162)
’’فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ ‘‘
یہ اسی طرح ہے جیسا کہ کوئی شخص کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اس عہد نامے میں بھی تمام رفیق اللہ اللہ کے ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔
اس رفاقت کے بہت فوائد ہیں: اس میں ہمارے لیے بہت سستا سودا ہے جس کے لیے شیخ الاسلام نے خود فرمایا کہ قبر کی پہلی رات تم سمجھ جاؤ گے کہ یہ رفاقت کیا ہے؟ دنیوی فوائد کے ساتھ اُخروی فوائد بھی ہیں۔ ہمارا عقیدہ اور ایمان اس رفاقت اور صحبت و سنگت نے ہی پرفتن دور میں بچا رکھا ہے۔ بقول شیخ الاسلام اس رفاقت سے ہم حضور غوث اعظمؒ کے مرید بن جاتے ہیں اور حضور غوث پاک نے فرما رکھا ہے کہ جو میرا مرید ہوگا اللہ رب العزت اسے مرنے سے قبل توبہ کی توفیق ضرور دے گا۔
سیشن: 5 ہوسٹ: عائشہ مبشر
موضوع: شیخ الاسلام کا نظریہ تربیت
مہمان: ڈاکٹر فرح ناز(صدر منہاج القرآن ویمن لیگ)
علامہ غلام مرتضیٰ علوی (ناظم تربیت)
عائشہ مبشر: نسلِ انسانی اور تاریخ انسانی کی روشنی میں تربیت کی ضرورت اور اہمیت امر ربی ہے اور اللہ رب العزت نے جنت میں حضرت آدم علیہ السلام کو رکھ کے ان کی تربیت فرمائی اور پھر دنیا میں ان کو بھیج دیا پھر دنیا میں اس تسلسل اور رابطہ کو آپ کس طرح دیکھتی ہیں؟
ڈاکٹر فرح ناز: تربیت انسان کے وجود کے لیے اور اس کائنات کی بقا کے لیے ایک لازمی امر ہےکہ کسی بھی سطح پر تربیت یافتہ لوگ جب معاشرے میں انٹریکٹ کرتے ہیں وہ گھر کی سطح ہو، وہ قومی سطح ہو، وہ سیاسی سطح ہو وہ دینی سطح ہو کوئی بھی شعبہ ہو کوئی بھی سطح ہووہ باہم فائدہ پہنچاتےہیں جبکہ غیر تربیت یافتہ افراد ایک ایسے بادل کی مانند ہوتے ہیں کہ جو جہاں جہاں انٹریکٹ کرتے ہیں وہ وہاں وہاں اپنامنفی اثر چھوڑتے ہیں اور پولیوشن کا باعث بنتے ہیں تربیت یافتہ افراد دنیا میں جہاں جہاں انٹریکٹ کرتے ہیں جہاں پر بھی ان کا وجود پایا جاتا ہے وہ وہاں پر مختلف انداز سے فائدہ پہنچاتےہیں۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ اس دنیا میں اس کائنات میں تربیت کی ضرورت اور اہمیت کیا ہے؟ تو ہمیں سب سے پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کا اُس تربیت یافتہ انسان سے مطالبہ کیا ہے؟ا للہ تعالی اور پورے دین کا تقاضا انسان سے پاکیزہ زندگی اور تہذیب نفس ہے کیونکہ دین اور شریعت انسان کی خواہشات اور رغبتوں کو کلیتاًختم کرنے کی بات نہیں کرتی وہ اس کو آرگنائز کرنے، ترتیب دینے اوراس کی حدود کو قائم کرنے کی بات کرتی ہے توانسان سے سب سے بڑا مطالبہ اور تقاضا تہذیب نفس اور پاکیزہ زندگی ہے۔
علامہ غلام مرتضی علوی: اگر آپ پوری تاریخ انسانی کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے انبیاء علیہ السلام کی تربیت فرمائی اور انبیاء نے قوموں کی تربیت کی۔ جب انبیاء کی تربیت کی باری آئی تو اللہ تبارک و تعالی نے موسی علیہ السلام کو 30 دن پھر دس دن بڑھا کے 40 دن کوہِ طور پر اپنی قربتوں میں رکھا وہ بھی ایک تربیت کا مرحلہ تھا۔ کہیں یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھ کر تربیت کے مرحلے سے گزار ا۔ انبیاء علیہ السلام میں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں رکھ کر انہیں تربیت سے گزار ااور آپ نے ان قیدیوں کی تربیت کی۔ یوسف علیہ السلام کو جتنی افرادی قوت ملی اورٹیم ورک ملا وہ سارا اس جیل کے قیدیوں سے ملا تو اللہ تبارک و تعالی اپنی نگرانی میں انبیاء کی اور انبیاء کی قوموں کی تربیت فرماتا رہا ہے۔ اعلان نبوت سے پہلے حضور نبی اکرمﷺ غار حرا میں ہفتوں اللہ کی قربت اور معیت میں گزارتےاور پھر وہاں سے نکل کر انسانیت کی تربیت کا فریضہ سر انجام دیتے۔ تو سمجھ یہ آئی کہ انسانی زندگی میں تربیت ایک لازمی عنصر ہے۔
عائشہ مبشر: حضور سیدی شیخ الاسلام امت مسلمہ کی اقامت کا اور دین کے احیاء کا کام کر رہے ہیں تو یقینا اپ کا نظریہ تربیت منفرد وخاص اور آقا کریمﷺ کے نظریہ تربیت سے متصل ہوگا تو اس حوالے سے حضور سیدی شیخ الاسلام کا نظریہ تربیت کیا ہے؟
علامہ غلام مرتضیٰ علوی: اگر ہم شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القاری صاحب کی زندگی کو دیکھیں تو 40 سال سے زائد عرصہ ہوگیا ہے کہ آپ نے تحریک منہاج القران کی شکل میں ایک عملی جدوجہد اور اس کے پیچھے ان کی اپنی زندگی کے طویل مراحل ہیں جس میں آپ اپنے والد گرامی کی تربیت میں رہے۔ شیخ الاسلام کی تربیت ہما جہتی تربیت ہے اور ہر دور کے مصلح کا فریضہ وذمہ داری ہوتی ہے کہ ان کی صدی میں جس جس پہلو پر تربیت کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان سارے پہلوؤں کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم بڑی جہات کو دیکھیں تو سب سے پہلی جہت فکری تربیت کی ہے۔ انہوں نے امت مسلمہ بلکہ انسانیت کی فکری تربیت کرنے کا اہم کردار ادا کیا ہے۔ دوسری جہت علمی تربیت کی ہے، شیخ الاسلام کی علمی تربیت کی کئی جہات ہیں۔ علم دو طرح کا ہے ایک توجیہی ہے اور ایک تخلیقی ہے۔ اس کی سادہ تعریف یہی ہوتی ہے کہ توجیہی علم یہ ہے کہ آپ کسی شے کا مرض یا علت بیان کر دیں اور اس کا حل دیں۔ ایسا علم دیں کہ اس کے مطابق کوئی عمل کرے۔ تخلیقی علم سے مراد ہے کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل ہو اورنتیجہ خیزی بھی یقینی ہو۔ ہمارے معاشرے میں علم توجیہی رہ گیا تھا اورتخلیقی علم ختم ہو گیا تھا۔ شیخ الاسلام نے جو علمی تربیت کی ہے، ان علوم کو تخلیقی سانچے میں ڈھالا ہے کہ اس سے معاشرے کو حقیقی حل میسر آیا ہے۔ اسی طرح اعتقادی واخلاقی اور روحانی تربیت کا پورا ایک میدان ہےتو یہ سات آٹھ بڑے بڑے گوشے ہیں گویا ہر ہر پہلو پر شیخ الاسلام ڈاکٹر صاحب نے تربیت کا اس امت اور قوم کا بلکہ انسانیت کی تربیت کا فریضہ سرانجام دیا ہے۔ اب اگر ان کی وضاحت کر لیں تو فکری تربیت سب سے پہلے ہے۔ اگر ہم گذشتہ15، 20، 30 سال کاجائزہ لیں تو صرف امت مسلمہ کا نہیں بلکہ انسانیت کا سب سے بڑا مسئلہ، فکری انتشار، تنگ نظری اور انتہا پسندی ہے۔ جس نے صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو پریشان کر رکھا ہے۔ کوئی ایک فرد ایسا ہو کہ جو اس مسئلے کو سمجھے، نہ صرف سمجھے بلکہ اس کی بنیادی وجہ کو سمجھے، سمجھنے کے بعد پھر فکری اعتبار سے پوری انسانیت کی تربیت کرے۔ تو ہم نے دیکھا کہ شیخ الاسلام نے سب سے پہلے اس مسئلے کو سمجھا کہ یہ دہشت گردی کاایک نتیجہ ہے۔ صرف اس کے اسباب تشخیص نہیں کیے بلکہ گراؤنڈ لیول سے اس کو حل کرنے کے لیے 45، 50 کتابوں پر مشتمل نصاب بھی ترتیب دیا۔ اپنا عملی کردارتو 40 سال پہلے سے ہمارے سامنے ہے کہ آپ نے اپنی دعوت و تبلیغ میں تکفیر کو شامل نہیں ہونے دیا۔ عملی طور پہ بھی اس کا اظہار کیا اور 40 سالوں میں تحریک منہاج القرآن کے رفقاء میں جو ان سے منسلک ہیں ان میں انتہا پسندی اور تنگ نظری کو نکال کر پرامن اخلاقی کردار عطا کیا۔ تو دیکھے اپنی جدوجہد سے شیخ الاسلام نے امت کو اہم سوالات کے جوابات مہیا کیے کہ اس کا فکر ی مسئلہ کیا ہے ؟اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس کا حل کیا ہے؟ اور پھر حل کرنے میں 40 سالوں میں ان کا اپنا کردار کیا ہے ؟شیخ الاسلام کے کردار اور جدوجہد سے تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات ملتے ہیں۔ دیکھا جائے تو امت مسلمہ پر سب سے بڑا حملہ مایوسی اور شکست خوردگی کا ہے۔ علامہ اقبال رحمت اللہ علیہ بھی اسی فلسفے کو سمجھانے کی جدوجہد کرتے رہے کہ
گر عثمانیوں پہ کوئی غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
حضور شیخ الاسلام نے فکری طور پر ایک تغیر اور تبدیلی کی سوچ پیدا کی اور لاکھوں کروڑوں لوگوں میں تبدیلی اور نتیجہ خیزی کا یقین پیدا کیا۔ مایوس کن ماحول میں فکر کو یقین تک لے کے جانا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ دوسرا اخلاقی وروحانی پہلو ہے، اس کا مختصر تعارف یہ ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا انسان محفوظ رہے۔ (صحیح البخاری: 10، متفق علیہ)
شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے افراد کی جو اخلاقی روحانی تربیت کی ہے، ہم یہ تو دعوی نہیں کرتے کہ اولیاء پیدا کیے ہیں لیکن لاکھوں سچے اور دردِ دل رکھنے والے مسلمان پیدا کیے ہیں، یہ دعوی ہم کر سکتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے اپنےکارکنان کی اخلاقی روحانی تربیت اس اندا ز سے کی ہے کہ 40 سالہ سفر میں لوگ ان کے مختلف نظریات پر انہیں گالیاں دیتے رہے لیکن انہوں نے کسی گالی کا جواب نہیں دیا۔ لوگ انہیں برا بھلا کہتے رہے انہوں نے کسی کو جواباً برا نہیں کہا۔ یہاں شیخ الاسلام کی بات نہیں کی جا رہی بلکہ ان کے تربیت یافتہ رفقاء کی بات کی جا رہی ہے کہ انہوں نے بھی کسی کو گالی کا جواب گالی میں نہیں دیا۔ یہ اخلاقی و روحانی تربیت کا ایک ایسا معیار ہے کہ دو چار سو نہیں لاکھوں افرادکواس سطح پہ لے جائیں کہ ان کا اخلاقی معیار معاشرے کے اخلاقی معیار سے بلند ترنظر آئے گا۔ یہ ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کا ایک پہلو بیان کیا ہے۔ اعتقادی تربیت کو لے لیں تو یہ وہ دور تھا کہ عقیدے کے اعتبار سے
تنگ نظری اور انتہا پسندی نےہر شے تباہ و برباد کر دی تھی اور فرقہ پرستی اسی کا نتیجہ تھا۔ ان سارے اسباب کا حل آپ نے دیا کہ اپنے دعوت و تبلیغ میں تکفیری فکر کو نکال دیا۔ ہر ہر عقیدے پر پہلے قرآن و حدیث سے پھر عقلی دلائل کے ساتھ ایسی اصلاح کی کہ اس کی وسعت کو دیکھنا چاہیں تو شرق سے غرب تک بڑی بڑی جماعتوں کے مسالک اور گروہوں کے عقیدے انتہا پسندی سے نکلے اور امن و رواداری میں حقیقت پسندی کے قریب آئے۔ وہ طبقہ یا وہ علاقہ یا جہاں سے عقیدے کا بگاڑ پیدا ہوتا تھا اب وہاں سے صحیح عقیدے کی اصلاح اور اس کا پیغام آگے بڑھ رہا ہے تو اس عمل میں شیخ الاسلام نے پوری امت مسلمہ کے عقائد کی اصلاح و تربیت میں پورا اپنا کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر فرح ناز: شیخ الاسلام کا نظریہ تربیت، فکر قرآن اور عشق رسولﷺ پر بنیاد کرتا ہے۔ آپ جس چیز کوبہت زیاد ہ فوکس کرتے ہیں وہ رسولﷺ کی محبت ہے۔ کیونکہ محبت ایک بہت بڑی طاقت ہے اورانسان کا رجوع متعین کرتی ہے۔ منہاج القرآن کے نظریہ تربیت کی بنیادعشق رسولﷺ اور قران مجید ہیں اور اس کے بعد جس چیز کو آپ نے لازم امر قرار دیا وہ انسان کے نفس کی اصلاح ہے۔ نفس کی اصلاح کا بہت گہرا تعلق قلب کی اصلاح سے ہے۔ حضور سیدی شیخ الاسلام نے روحانی تربیت اور قلب کی اصلاح کا اہتمام کیاجس کے بارے میں نبی پاکﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ درست ہو جائے تو پورے کا پورا وجود درست ہو جاتا ہے اور اگر اس میں بگاڑ ہے تو آپ کے پورے کے پورے وجود میں بگاڑ ہے۔ آپ نے ایک ایک فرد کو بیٹھا کر اصلاح نہیں کی لیکن آپ نے منہاج القرآن کا ماڈل مجموعی تربیت اور اجتماعات کے ذریعے آپ نے بہت بڑی سطح پہ تربیت کا اہتمام فرمایا۔ پوری کی پوری تحریک منہاج القرآن ایک تربیت گاہ ہے۔ جو عام فرد بھی، تحریک کا رفیق بن رہا ہے جو اس سے اگے جتنا سفر طے کر رہا ہے وہ ایک بہت بڑی تربیت گاہ میں داخل ہو رہا ہے اور وہ اپنا ہر دن ہر لمحہ پہلےسے بہترین اور زیادہ خوبصورت بنا رہا ہے بے شک یہ ایک تربیت گاہ ہے۔
عائشہ مبشر: شیخ الاسلام کی تربیت کا انداز واسلوب کن طبقات زندگی کو مخاطب کرتا ہےاور کس طرح سے منفرد ہے ؟
علامہ غلام مرتضی علوی: شیخ الاسلام کی جدوجہد کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ آپ کی جدوجہد سارے طبقات کے لیے ہے۔ عمر کے اعتبارسے دیکھیں تو بچوں سے لے کر بزرگوں تک، اگر آپ معاشرے کے طبقات دیکھیں تو سیاسی طبقے کے لیے جتنی سیاسی وآئینی شعور کی بیداری کی کاوش معاشرے کی تربیت کے لیے شیخ الاسلام نے کی وہ ایک الگ پورا میدان ہے۔ مذہبی طبقہ کو لے لیں تو اس کے لیے آپ نے تربیت کا جو سامان فراہم کیا، عقیدے، عمل اور اخلاق کے اعتبار سے تو وہ اپنی مثال آپ ہے۔ معاشرےکے عام انسان کے لیے آپ نے جو اصلاح اور تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا سب اظہر من الشمس ہے۔ معاشرے کا کون سا طبقہ آپ نے چھوڑ ا ہے؟ 40سالوں میں جس قدر خواتین معاشرہ کے لیے نظام تربیت فراہم کیا، جس قدر ان کو ایمپاور کیا، جس قدر ان کو خدمت دین کے ہر کام میں شریک کیا یہ الگ پورا باب ہے۔ شعوری تربیت کے طبقات لے لیں یا عمر کے اعتبار سے لے لیں، ہر اعتبار سے ہر طبقے کو آپ نے تربیتی نظام سے گزاراہے۔
ڈاکٹر فرح ناز: منہاج القران کا نظام تربیت منفرد کیوں ہے؟ جب بھی کوئی دینی جماعت اٹھتی ہیں تو لوگوں کی تربیت کرنے کا اس کااپنا کوئی نہ کوئی ایک طریقہ اور ایک پیٹرن ہوتا ہے۔ منہاج القرآن اور شیخ الاسلام کے تربیتی نظام کی بنیادی اور منفرد چیز نرمی ہے ان کا شفیق ہونا ہے۔ وہ بڑی نرمی کے ساتھ بڑے شفیق بن کر تربیت فرماتے ہیں اور ہم باقی مذہبی اور تنظیمی جماعتوں اوراداروں کو دیکھیں تو وہاں پر تربیت کے بڑے سخت پہلو جھلکتے نظر آتے ہیں۔ نرمی نبی پاکﷺ کی سیرت کا ایک اہم پہلو ہے اس کا پورا عکس ہمیں شیخ الاسلام کی ذات میں نظر آتا ہے۔ منہاج القرآن کا تربیتی نصاب بہت عام فہم ہے۔ اس میں کوئی دوری اور بیگانگی آپ کو محسوس نہیں ہوتی اس میں تناؤ، شدت اور سختی محسوس نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ منہاج القرآن کے رفقا اور تربیت یافتہ افراد کا دائرہ کار وسیع ہوتا جا رہا ہے یہ جو بیان کیا یہ اس کا ایک نمایاں پہلو تھا۔ دوسرا نمایاں پہلو عملی تربیت کاہے، آپ جو چیز سیکھ رہے ہیں اس کی پریکٹس ہو رہی ہے۔ آپ اپنی انکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں کہ منہاج القرآن عملی تربیت کا ایک ایسا نصاب فراہم کرتا ہے جو آپ کو کتابوں میں نہیں نظر آتا بلکہ اپنی زندگی کے ہر قدم پر اس کی عملی جھلک آپ کو نظر آتی ہے۔ منہاج القرآن کا نظام تربیت افراد سازی، سیرت سازی اورشخصیت سازی ہے۔
عائشہ مبشر: منہاج القرآن کی تربیتی نظام میں نتیجہ خیزی کو آپ کس طرح سے بیان کرتے ہیں اوراس کے لیے کیا مقرر ڈائمنشنز اورپیرامیٹرز سمجھ آتے ہیں؟
علامہ غلام مرتضی علوی: منہاج القرآن کا پہلا پیرامیٹر یہ ہےکہ منہاج القرآن کی تربیتی نظام کے مقاصد پورے ہورہے ہوں۔ منہاج القرآن نے معاشرے سے تنگ نظری، انتہا پسندی ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ منہاج القرآن اپنے تربیت یافتہ کارکنان کی شکل میں معاشرے کو سب سے بہتر نمونہ دے سکتے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز کے مختلف جماعتوں کے افراد کی مختلف ویڈیوز نیٹ پر موجود ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ناموس کے دفاع کے حوالے جب پاکستان میں ہنگامے ہو رہے تھے اس وقت منہاج القرآن نے بھی احتجاج کیا اسلام آباد میں اس احتجاج کے بعد ایک نجی چینل نے یہ خبر نشرکی کہ اگر کسی نے پرامن احتجاج کا سلیقہ سیکھنا ہے تو منہاج القرآن سے سیکھے۔ سوشل میڈیا پر جب کوئی کسی کو برا بھلا کہتا ہے تو اس کے نتیجے میں اس جماعت کے کارکنان بھی کچھ نہ کچھ رد عمل کرتے ہیں انہوں نے اس بات کا کھلے عام اقرار کیا کہ منہاج القرآن کے کارکنان سوشل میڈیا پر رد عمل میں بھی اتنے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہیں جو اخلاق کسی اور کے پاس نہیں۔ گذشتہ 40 سالوں میں مرکزی یا فیلڈ کی سطح کا کوئی بھی پروگرام ایسا نہیں ہے کہ جس میں ہم نے سب مسالک کو اکٹھا نہ کیا ہو ہر طبقے، فرقے اور مسلک کے لوگ ان پروگرامز میں شریک ہوتے ہیں۔ اتنی وسعتِ قلبی شیخ الاسلام کی تربیت کا نتیجہ ہے۔ بڑے بڑے اولیاء کرام اللہ کے نیک اور مقرب بندے وہ عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کرتے رہے درست ہے وہ بلند درجے کے لوگ تھے۔ اگر آج کے دور میں کوئی ان کا عکس دیکھنا چاہے تو یقین جانیئے کہ 20، 20 ہزار افراد شیخ الاسلام کی تربیت سے عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کر رہے ہیں۔ یہ عبادت اور بندگی کا منظر کسی نے دیکھنا ہو تو شہرِ اعتکاف میں ا ٓجائیں۔ اس کے بعد آپ پوری دنیا کے لوگوں کے دلوں میں حضور نبی اکرمﷺ کی محبت پیدا کرنا یہ شیخ الاسلام کے تربیتی ماڈل کا سب سےبڑا ٹول ہے یعنی محبت رسولﷺ کے ذریعے ہر محبت پیدا ہو سکتی ہے۔ جو محبت شیخ الاسلام لوگوں کے دلوں میں اجاگر کرنا چاہ رہے تھے وہ محبت آگے منتقل ہوئی ہے اور لاکھوں سینے محبت رسولﷺ سے روشن ہوئے ہیں اسی طرح کا کوئی بھی پیرامیٹر رکھ کے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ شیخ الاسلام کے جو تربیت کے مقاصد تھے، وہ نتیجہ خیز نظر آرہے ہیں۔
ڈاکٹر فرح ناز: آپ نے جب بھی کسی میکنزم کو پرکھنا ہوتا ہے تو یقیناً آپ اس کے نتیجے کو دیکھتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا ہے۔ آپ کی کوئی سٹریٹجی، کوئی بھی حکمت عملی جب کوئی نتیجہ دیتی ہے تو یقیناً اس وقت آپ اس کی کامیابی یا اس کی ناکامی کا تعین کر سکتے ہیں۔ منہاج القرآن کی جو تربیت کی سٹریٹجی ہے اس کے نتیجے میں آپ ایک عام فرد کو سود مند شہری بنا ہوا دیکھتے ہیں، آپ ایک عام انسان کے اندر اس کے اخلاقی معاملات میں واضح تبدیلی محسوس کرتے ہیں جب آپ نے نتیجے کو دیکھنا ہوتا ہے تو آپ موجودہ کو اس کے ماضی کے ساتھ ہمیشہ موازنہ کرتے ہیں کہ یہ اس سے پہلے کیسا تھا، اس کا گذشتہ سال کیسا تھا، اس کی گذشتہ زندگی کیسی تھی؟ منہاج القرآن کی تربیت گاہ میں جیسے ہی آپ اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو آپ اپنی اخلاقی، فکری اورعملی تربیت کی ان سب جہات میں برتری اور بہتری محسوس کرتے ہیں۔ منہاج القرآن اپنے نظام تربیت کے ذریعے عام انسان کو بہترین انسان بنا کر معاشرے کو دے رہا ہے۔ خواتین کی جہاں تک تربیت کی بات ہے تو ان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنا حق کیسے حاصل کرنا ہے۔ گو کہ منہاج القرآن میں ہمیں یہ تربیت، شعور اور اعتماد ملا ہے لیکن اپنا حق چھوڑنا کیسے ہے یہ تربیت بھی ہمیں منہاج القرآن بہت خوبصورت انداز میں کرتا نظر آتا ہے۔ قربانی دینے کا درس، کسی دوسرے کی خاطر اپنی جگہ چھوڑ دینے کا درس، اپنے حق کو شیئر کرنے کا درس، یہ تربیت منہاج القرآن کی بہت انفرادی تربیت ہے اور یقیناً یہ شیخ الاسلام کا بہت بڑا کریڈٹ ہے۔