شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف اسلامی بیانیہ کے علمبردار

ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف اسلامی بیانیہ کے علمبردار

یسویں صدی انسانی تاریخ میں ایک ایسے زمانے کا نام ہے جس نے نہ صرف انسان کو چکنا چور کیا بلکہ انسانیت کو ہی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دو عالمگیر جنگوں نے جس طرح انسانی معاشرے کو لخت لخت کیا، وہ ایک تاریخی المیہ ہے۔ دونوں عالمی جنگیں سیاسی دہشت گردی تھیں ان سے پہلے صلیبی جنگوں نے مذہبی دہشت گردی کی بنیاد رکھ کر اسے عروج تک پہنچایا تھا۔ اس طرح طاقتور انسان کے ہاتھوں کمزور انسان کیڑوں مکوڑوں کی طرح پاؤں تلے کچلے جاتے رہے۔ صدیاں بیت جانے کے باوجود انتہا پسندی اور دہشت گردی کا انسان دشمن سفر جاری ہے۔ دہشت اور وحشت کے اس عفریت نے صرف انسانوں کا ہی قتل نہیں کیا بلکہ اس نے تمام تر اخلاقی اقدار، تہذیبوں و تمدنی رویوں، سیاسی و سماجی ضوابط کو قوت و اقتدار کی ھوس اور تعصب و تنگ نظری کی ننگِ انسانیت کارروائیوں سے روند کر انسانی معاشرے کو حیوانی معاشرے میں بدل دیاہے۔

اس دور میں ملکِ پاکستان بھی دہشت گردی و انتہا پسند کی بھینٹ چڑھ چکا تھا۔ حتی کہ آج اکیسویں صدی کا ربع اول گزر جانے کے باوجود ہر سرکاری و غیر سرکاری کوشش اور تمام قسم کے وسائل بروئے کار لانے کے باوجود ریاست دہشت گردی کے اس عفریت کو بوتل میں بند کرنے میں ناکام ہے بلکہ اس کے برعکس دہشت گردی ہر روز نئی سے نئی شکل میں سامنے آکر معاشرتی امن کو تہہ و بالا کررہی ہے۔ اس وقت ہر قسم کے فرق و امتیاز کے بغیر دہشت گردی درج ذیل صورتوں میں تباہی و بربادی کا سبب بن رہی ہے:
۱۔ ریاستی و سیاسی دہشت گردی
۲۔ معاشی دہشت گردی
۳۔ مذہبی و مسلکی فرقہ وارانہ دہشت گردی
۴۔ تہذیبی و تمدنی دہشت گردی
۵۔ میڈیا وار کی صورت میں دہشت گردی
۶۔ فکری و نظریاتی دہشت گردی

اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا مذکورہ بالا دہشت گردی کی تمام صورتوں کا شکار ہے اور انسانیت ان مختلف النوع دہشت گردی کے آہنی پنجوں میں جکڑی کراہ رہی ہے۔

بیسویں صدی کے آخری ربع میں ملکِ پاکستان کی صورت حال یہ تھی کہ پورے ملک کو مذہبی فرقہ واریت، مسلکی تنگ نظری اور گروہ پرستی کی وبا نے اپنی جکڑ میں لیاہوا تھا۔ پورا ملک مذہب و مسلک کے نام پر قتل گاہ بنادیا گیا تھا اور ارضِ وطن پر ہر روز خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ مسجدیں محفوظ تھیں اور نہ امام بارگاہیں محفوظ تھیں، مزاراتِ اولیاء پر امن تھا اور نہ خانقاہوں میں امن تھا۔ یہی نہیں بلکہ عوامی مقامات، کوچہ و بازار، بس اڈے اور ریلوے اسٹیشن تک دہشت گردوں کی دست برد سے محفوظ نہیں تھے۔

فرقہ واریت کے تاریک ماحول میں مہرِ تاباں کی مانند تحریک منہاج القرآن کا طلوع

پاکستان کی تاریخ میں 1980ء کا سال بڑا اہم تھا۔ اس میں چودھویں صدی ہجری اپنا رختِ سفر باندھے، طاقِ ماضی کی زینت بننے کو تیار کھڑی تھی اور پندرھویں صدی کا سورج صبحِ دم اپنی نوخیز کرنوں سے کرۂ ارضی کو روشن کرنے کےلیے
بے تاب تھا۔ ادھر چرخِ نیلی فام پر نئی صدی ہجری کا طلوع ہوا، ادھر آفاقِ علم و فکر پر اصلاحِ احوال، تزکیۂ نفوس، محبتِ الہٰی، عشق ِ رسول ﷺ ، اتحادِ امت اور امنِ عالم کا پیغام دیتے ہوئے تحریک منہاج القرآن کی صورت میں ایک مہر ِتاباں طلوع ہوتا ہے اور انتہائی قلیل عرصہ میں شرق تا غرب دنیا کے تمام براعظموں کو اپنے علمی و فکری اجالے سے منور کر دیتا ہے۔

جب مختلف مکاتبِ فکر ایک دوسرے کے خلاف فتوے بازی کے ذریعہ کفرو شرک اور بدعتی قلعوں کو گرانے میں مصروف تھے، غیر مسلم تو دامنِ اسلام سے کم ہی وابستہ ہورہے تھے، البتہ فتوؤں کی بمباری سے مسلمانوں کے لاشے ہر روز گررہے تھے اورخواتین بیوہ اور بچے یتیم ہورہے تھےتو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اس دہشت زدہ ماحول میں اتحادِ امت اور اسلام کے پیغامِ امن و محبت کی ایک مضبوط آواز بن کر سامنے آئے۔ وحشت کی اس تاریک رات میں انھوں نے امت کے لیے اذانِ اتحاد دیتے ہوئے فرمایا:

’’اسلامی معاشرے کو صحیح خطوط پر منظم کرنے کی ذمہ داری من حیث المجموع تمام امتِ مسلمہ پر ہی ڈالی گئی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی بعثتِ مبارکہ زمانی و مکانی حدود سے ماوراء قیامت تک تمام نسلِ انسانی کے لیے ہے۔ اس لیے اجتماعیت کا تصور اسلام کی فطرت کا جزو لاینفک ہے۔ اجتماعیت جسدِ اسلام کے رگ و ریشہ میں اس طرح سمائی ہوئی ہے کہ حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ہر جگہ اس کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ کیونکہ شجرِ اسلام کے برگ و بار کو زمانے کی بلاخیزیوں سے محفوظ کرنے کے لیے قرآن حکیم کی تعلیمات اور نبی اکرم ﷺ کی سیرت ہی مشعلِ راہ ہیں۔ اس لیے فرقہ پرستی کے بلاخیز طوفانوں سے نبرد آزما ہونے کے لیے جس ضابطۂ عمل کو اپنانے کی ضرورت ہے، وہ قرآن و سنت کے
تصورِ اجتماعیت پر مبنی ہونا چاہیے۔ ‘‘ (فرقہ پرستی کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے؟ فروری: 1987ء، ص: ۴۰، ۴۱)

مسلمانوں کے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان پائیدار اتحاد کی بنیاد کی نشاندہی کرتے ہوئے شیخ الاسلام فرماتے ہیں:

’’مسلمان اپنے تشخصات کے باوصف اگر ایک مرکز پر باہم متحد ہونا چاہیں تو ان کے اشتراک کی بنیاد صرف اور صرف حضور رسالت مآب ﷺ کی غیر مشروط غلامی و محبت، مخلصانہ اطاعت و وفاداری اور آپ ﷺ کی سنت و سیرت کی مکمل پیروی اور اتباع ہے۔ محض عقیدۂ توحید کی بنیاد پر مسلمانوں کا اتحاد ممکن نہیں کیونکہ اللہ کو ماننے والوں میں یہودی اور دیگر الہامی مذاہب کے پیروکار بھی ہیں۔ عقیدۂ توحید کے دعویدار وہ بھی ہیں مگر وہ نسبت جو ہمیں اور انھیں دو الگ الگ امتوں میں تقسیم کررہی ہے، صرف نسبتِ نبوی ﷺ ہے اور یہی حقیقی توحید کا عملی تشخص ہے۔ ہم صرف امتِ مصطفوی ہونے کے حوالے سے عیسائیوں اور یہودیوں سے ممیز ہیں۔ صرف یہی وہ بنائے محکم ہے جس پر شرق و غرب کے مسلمانوں کو باہم متحد اور منظم کیا جاسکتا ہے۔ ‘‘ (فرقہ پرستی کا خاتمہ کیونکرممکن ہے؟ص: ۴۷)

تحریک منہاج القرآن کے قیام کے اول روز سے ہی شیخ الاسلام کی تمام تر جدوجہداور توجہات کا محور ملکی سطح پر تمام اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان مشترکات کی بنیاد پر باہمی اتحاد اور مسلکی تعصبات کا خاتمہ رہاہے۔ چنانچہ مرکز سے لے کر نچلی سطح تک تحریک منہاج القرآن کے تحت ہونے والے پروگرامز میں تمام مسالک کے نمائندہ علماء اور شخصیات اوّل روز سے ہی زینتِ بزم بنتی چلی آرہی ہیں۔ یوں ملکی سطح پر مسالک کے درمیان نفرتوں اور تعصبات کی دیواریں گرا کر اور تنگ نظری کی جگہ وسعتِ نظری کی سوچ پیدا کرکے اتحادِ امت کا عملی مظاہرہ آج تک جاری و ساری ہے۔ قبلہ شیخ الاسلام کے اتحادِ امت کے اس فلسفہ کو بین الاقوامی سطح پر بھی اہلِ علم و دانش کی طرف سے پذیرائی ملی۔

دہشت گردی کے خلاف اسلامی بیانیہ کے علمبردار

نائن الیون کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کو ایک دہشت گرد قوم اور دینِ اسلام کو دہشت گردی کا علمبردار دین قرار دیا جانے لگا۔ اسلام دشمنی کے مشترکہ نقطۂ اور نظریہ پر متحد ہوکر عالمِ مغرب بہ یک زبان یہ راگ الاپنے لگا۔ پوری دنیا بالخصوص مغرب میں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کردیا گیا۔ مسلمانوں کی نسلِ نوکو دینِ اسلام سے برگشتہ کرنے کی تحریک شروع کردی گئی اور مسلمانوں پر طرح طرح کی ناروا پابندیاں عائد کی جانے لگیں۔

مغرب و یورپ کے ذمہ داران، دانشوران اور انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار اسلام دشمنی اور مسلم کشی کے ایجنڈے پر اڑے رہے اور صبح و شام دینِ اسلام، قرآن مجید، مسلمانوں یہاں تک کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے بارے نازیبا طرزِ عمل کو اپنا وطیرہ بنائے رہے۔

ایک طرف دشمنانِ اسلام امتِ مسلمہ کو صفحۂ ہستی سے مٹانے پر تلے ہوئے تھے تو دوسری طرف نادان دوست ایسی سرگرمیوں میں مشغول تھے کہ جن سے اغیار کو مسلمانوں کے خلاف اقدامات کرنے اور اسلام کو بدنام کرنے کی شہہ ملتی تھی۔ مسلمانوں کی صفوں میں چھپے ہوئے مار آستین اور چہروں پر دوستی کا نقاب چڑھائے دوست نما دشمن بھی آئے روز نئی سے نئی کارروائیاں ڈالتے رہتے تھے۔ گویا ایک طرف اسلام کے کھلے دشمن تھے تو دوسری طرف مسلم نما چہروں میں چھپے دشمن تھے جن کو پاکستان کی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک طاقتور حلقوں کی پشت پناہی بھی حاصل تھی اور عوامی سطح پر بھی انہیں شدت پسندوں اور انتہا پسندوں کی حمایت پسِ پردہ حاصل تھی۔ یوں کھلے دشمنوں کی نسبت ان نقاب پوش دشمنوں سے امتِ مسلمہ اور پاکستان کو زیادہ خطرات لاحق تھے۔

ایسے اسلام دشمن اور انسانیت مخالف ماحول میں نبی رحمت، پیکر شفقت ومحبت حضور سید عالم ﷺ کے دینِ اخوت و رافت کے پیغامِ امن و سلامتی کا علم اٹھائے اسلام کے رخِ روشن کو نکھار کر اس کی اصل تصویر اور اسوۂ رسول ﷺ کا حقیقی تصور دنیائے عالم کے سامنے رکھنا کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ چاروں طرف پھیلے ہر قسم کے دشمن کو دعوتِ مبارزت دینا تھی۔ اس لیے ہر داعی، ہر مصلح، ہر دانشور اس خطرناک صورت کا مقابلہ کرنے اور دہشت گردی کے منہ زور گھوڑے کو لگام دینے کی اپنے اندر جرأت و ہمت نہیں پاتا تھا۔ اگرچہ انفرادی سطح پر اور چند تنظیمات کے پلیٹ فارم سے محدود شکل میں اجتماعی سطح پر بھی اس صورتِ حال کے خلاف آواز اٹھائی گئی، فتوے بھی صادر کیے گئے مگر وہ سب کوششیں بے نتیجہ اور غیر مؤثر رہیں۔ دہشت گردی کے اس صنمِ اکبر کو پاش پاش کرنے کے لیے سنار کی سو ضربوں کی نہیں بلکہ لوہار کی ایک ضرب لگانے کی ضرورت تھی۔ ایک ایسی ضرب جو نورِ یقین، قوتِ عشق اور دلائل و براہینِ علمیہ کی طاقت سے اس عفریت کو کچل کر رکھ دے۔

ہزار خوف ہو لیکن زبان ہو دل کی رفیق

چنانچہ ان حالات میں شیخ الاسلام نے پوری جرأت و جوانمردی سے میدان میں قدم رکھا اور دینِ اسلام اور مسلمانوں کے دفاع کی حکمتِ عملی وضع کی۔ قوتِ بازوئے حیدر کے امین اور سفیر امن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی، تحمل و برداشت، رواداری کے وکیل بن کر میدانِ عمل میں اترتے ہیں اور خداداد حکمت و بصیرت، عقل و دانش، فہمِ اسلام و تفہیمِ دین، طلاقتِ لسانی، جوہرِ خطابت، مومنانہ فراست اور حکیمانہ طرز عمل ایسے الوہی عطیات سے لیس ہوکر قلم و قرطاس اور خطابات و مکالمات کے میدان میں قدم رکھتے ہیں تو ان کے فصاحت و بلاغت میں دھلے ہوئے طرزِ کلام، بدیع اسلوبِ بیان، نادر اور اچھوتے حسنِ استدلال کے سامنے دانشورانِ یورپ اور مفکرینِ مغرب انگشت بہ دنداں نظر آتے ہیں۔ دلائل ایسے قوی کہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں اور استدلال ایسا قوی کہ بڑے بڑے فلسفی و حکیم اور دانشور بے خودی میں سرِ تسلیم خم کیے جاتے ہیں اور ان کے فکرو نظر سے تعصبات کے سیاہ پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں اور اسلام کا رخِ روشن اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ منور ہوکر ان کے سامنے آکھڑا ہوتا ہے۔

وحشت و بربریت، شدت پرستی و انتہا پسندی اور دہشت کے اس خوفناک ماحول میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ہر قسم کی دھمکیوں اور خوف و خطر کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اور مخالف ہواؤں کو پسپا کرتے ہوئے دینِ اسلام کا دفاع کرتے ہوئے قلم و قرطاس اور اپنی فصاحت وبلاغت کو اپنا ہتھیار بنایا۔

امن و سلامتی، تحمل و بردشت، رواداری اور بھائی چارہ کے علمبردار دینِ اسلام پر دہشت گردی کا الزام کوئی معمولی الزام نہیں تھا۔ اس انتہائی گھناؤنے الزام کا جواب اور اسلام کو دینِ امن و رحمت کے طور پر پیش کرنا اور ہر سطح پر اور ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کا دفاع کرنا رجالِ دین کے لیے ایک چیلنج تھا۔ اسلام مخالف پروپیگنڈا اس قدر پھیلا ہوا تھا کہ بظاہر اس کا مقابلہ کرنا ایک مشکل کام نظر آتاتھا۔

دہشت گردی کے خلاف تاریخی فتویٰ

اس مشکل صورت حال میں شیخ الاسلام مدظلہ نے کشتی اسلام کی ناخدائی کا بیڑا اٹھاتے ہوئے قلمی میدان میں قدم رکھا اور دہشت گردی کے خلاف علم و تحقیق کا ایک نادر و نایاب شاہکار چھ صد پانچ صفحات پر مشتمل ایک جامع اور مفصل فتویٰ بعنوان: ’’دہشت گردی اور فتنہ خوارج‘‘جاری کیا۔ اس فتویٰ نے نہ صرف خوارج اور دہشت گرد گروہوں کی کمر توڑ دی بلکہ اسلام دشمنوں کی طرف سے پھیلائے ہوئے زہریلے پروپیگنڈا کی ظلمتوں کو چیرتے ہوئے اسلام کی پرامن تعلیمات کے چہرے کو نکھار کر دنیائے عالم کے سامنے پیش کیا۔ یوں اسلام کی حقیقی تصویر اور صحیح تصور واضح صورت میں دنیا کے سامنے آیا۔

شیخ الاسلام مدظلہ کے اس فتویٰ میں اسلام کے دینِ امن و سلامتی ہونے کو بھی خوب واضح کیا گیا اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خلاف اسلامی تعلیمات کو بھی خوب اجاگر کیا گیا۔ اس تاریخی فتویٰ کے دو اقتباسات ملاحظہ ہوں:
۱۔ اسلام میں غیر مسلم سفارت کاروں کے قتل کی ممانعت کے حوالے سے شیخ الاسلام مدظلہ لکھتے ہیں:

’’اسلام قومی اور بین الاقوامی معاملات میں امن و رواداری کا درس دیتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات کے مطابق بدترین دشمن قوم کا سفارت کار بھی اگر سفارتکاری کے لیے آئے تو اس کا قتل حرام ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس کئی مواقع پر غیر مسلموں کے نمائندے آئے لیکن آپ ﷺ نے ان سے ہمیشہ خود بھی حسنِ سلوک فرمایا اور صحابہ کرامl کو بھی یہی تعلیم دی۔ حتی کہ نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ کذاب کے نمائندے آئے جنھوں نے صریحاً اعتراف ارتداد کیا تھا لیکن آپ ﷺ ان کے سفارت کار ہونے کے باعث ان سے حسنِ سلوک سے پیش آئے۔ (تاریخی فتویٰ، ص: ۱۴۳)

اسی طرح مذہبی اختلاف کی بنیاد پر کسی غیر مسلم کا قتل کرنا بھی حرام ہے، اس کے حوالہ سے حکمِ شرعی کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام مدظلہ فرماتے ہیں:

’’دین و مذہب کا اختلاف قطعی طورپرکسی کو قتل کرنے اورمال لوٹنے کا سبب نہیں بن سکتا۔ کسی انسان پر ظلم و زیادتی کرنا خواہ اس کا تعلق کسی مذہب سے ہو اور وہ ظلم و زیادتی خواہ قتل کی شکل میں ہو، ایذا رسانی یا اس کے اوپر جھوٹے الزام اور تہمت کی شکل میں، سب حرام ہے۔ ایسی ہر قسم کی زیادتی کا قصاص یعنی بدلہ واجب ہوگا۔ (فتویٰ، ص: ۲۲۳)

فتویٰ کے مذکورہ دونوں اقتباسات کے ایک ایک لفظ سے دینِ اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی، تحمل و برداشت کا نور تو جھلک ہی رہا ہے لیکن اس کے ساتھ صاحبِ فتویٰ کی فہمِ اسلام اور فکری واضحیت بھی روزِ روشن کی طرح واضح نظر آتی ہے کہ انہیں دینِ اسلام کے دینِ امن ہونے کا کس قدر یقینِ کامل ہے۔

دہشت گردی کے فتنہ کا مستقل حل: نصابِ امن

شیخ الاسلام مدظلہ نے گہرا تاریخی مطالعہ کرتے ہوئے اور معروضی حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردی و انتہا پسندی کے فتنہ کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اس کا جو علاج تجویز کیا ہے، وہ یہ ہے کہ ملک بھر کے اندر سرکاری اور نجی سطح پر سکول سے لے کر یونیورسٹی کی تعلیم تک سوشل سائنسز، میڈیکل، انجینئرنگ کے نصابات کی طرح دہشت گردی کے انسداد اور خاتمے کے لیے فروغِ امن کے لائحہ عمل کو شاملِ نصاب کیا جائے اور مطالعہ پاکستان اور اسلامیات لازمی کے مضامین کی طرح اس کو بھی ہر سطح کے تعلیمی مرحلہ میں نصاب کا لازمی مضمون قرار دے کر پڑھایا جائے۔ اسی طرح دینی جامعات یہاں تک کہ حفظ القرآن کے بچوں کو بھی اس فروغِ امن کے نصاب کی بنیادی باتیں اور تصورات خوب اچھی طرح ذہن نشین کروائی جائیں تاکہ حفظ قرآن کے ساتھ ساتھ معاشرتی امن سے متعلق اسلامی تعلیمات بھی بچپن سے ہی ان کے قلوب و اذہان میں خوب راسخ ہوجائیں اور وہ معاشرے میں ایک مفید انسان بن کر زندگی گزار سکیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا فلسفۂ تربیت یہ ہے کہ جب تک افرادِ معاشرہ کی ذہنی و قلبی تربیت نہیں کی جاتی، اس وقت تک اصلاح کی کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے ایک ایسا نظامِ تربیت اور نصابِ تعلیم تشکیل دینا ضروری ہے جس کو پڑھ کر اور مخصوص نوعیت کے تربیتی نظام کی چھلنی سے گزر کرہی ذہنی و اعتقادی اور فکری و عملی اعتبار سے ایک روحانی الطبع معاشرہ اور افراد وجود میں آسکتے ہیں۔ اس لیے کہ شیخ الاسلام ایسی تعلیم کو تسلیم ہی نہیں کرتے جسے حاصل کرکے طالب علم کی سیرت و کردار، اخلاق و اطوار، گفتار و رفتار اور قلب و نظر میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہو۔ اسی ملی درد کے احساس کے ساتھ انھوں نے تربیت اور تعلیم پر مشتمل فروغِ امن اور انسدادِ دہشت گردی کا اسلامی نصاب ترتیب دے کر ملتِ اسلامیہ پاکستان کو تحفہ کی صورت میں پیش کیا ہے۔

یاد رہے کہ اس نصاب کو مرتب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے پورے معاشرے کو درج ذیل پانچ بڑے طبقات میں تقسیم کیا ہے اور پھر ان میں سے ہر طبقہ کے تحت معاشرے میں مختلف میادین میں موجود مختلف گروہوں کو شامل کرکے ان کے لیے الگ الگ نصاب ترتیب دیا گیا ہے:

۱۔ فروغِ امن اور انسدادِ ہشت گردی کا اسلامی نصاب (ریاستی سیکورٹی اداروں کے افسروں اور جوانوں کے لیے )
۲۔ فروغِ امن اور انسدادِ دہشت گردی کا اسلامی نصاب (اساتذہ، وکلا اور دیگر دانشور طبقات کے لیے)
۳۔ فروغِ امن اور انسداد ِ دہشت گردی کا اسلامی نصاب
(ائمہ، خطباء اور علماء کرام کے لیے)
۴۔ فروغِ امن اور انسدادِ دہشت گردی کا اسلامی نصاب
(سول سوسائٹی کے جملہ طبقات کے لیے)
۵۔ فروغِ امن اور انسدادِ دہشت گردی کا اسلامی نصاب
(طلبہ و طالبات کے لیے)

احترامِ انسانیت اور اسلام کی پرامن تعلیمات کے حوالے سے دیگر قلمی آثار

دہشت گردی کی مذمت اور خوارج ایسے دشمنانِ ملت سے متعلق دینِ اسلام کی پرامن تعلیمات پر شرح و بسط کے ساتھ لکھے گئے تاریخی فتویٰ اور نصابِ امن کے علاوہ اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی، تحمل و بردباری، اعتدال پسندی اور بقائے باہمی کے رویوں کو پروان چڑھاتیں اور حضور نبی اکرم ﷺ کی رحمۃ للعالمینی کے فیضان کو عام کرتی ہوئی شیخ الاسلام کی دیگر تصانیف میں سے چند کے نام ملاحظہ ہوں:

۱۔ اسلام اور اہل کتاب ۲۔ اسلام میں انسانی حقوق
۳۔ فتنہ خوارج (تاریخی، نفسیاتی، علمی اور شرعی جائزہ)
۴۔ الجہاد الاکبر ۵۔ اسلام میں محبت اور عدمِ تشدد
۶۔ فرقہ پرستی کا خاتمہ کیونکر ممکن ہے؟
۷۔ سیرت الرسول (جلد ہفتم: فلسفہ جنگ و امن)
۸۔ الاحکام الشرعیہ فی کون الاسلام دینا لخدمۃ الانسانیۃ۔

ان کے علاوہ اسلام کے پیغامِ محبت، بھائی چارہ، معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور غیر مسلموں کے ساتھ رحمدلانہ رویئے، انسانی و اخلاقی بنیاد پر ایک دوسرے کے لیے ایثار سے متعلق عہدِ نبوی، دورِ خلافتِ راشدہ اور بعد کے ادوار سے لے کر آج تک مسلم اور غیر مسلم معاشروں کے مابین پرامن باہمی تعلقات کو واضح کرتی ہوئی دیگر درجنوں کتب ہیں جو شیخ الاسلام نے دنیائے انسانیت میں مستقل معاشرتی امن کوفروغ دینے کے لیے ایک تحفہ کی صورت عطا کیں۔

شیخ الاسلام نے قومی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک مسلم معاشرہ کے اندر پائی جانے والی مسلکی و مذہبی منافرت، تعصب، تنگ نظری، انتہا پسندی اور شدت پسندی کی بلند و بالا دیواروں کو گرایا۔ ۔ ۔ مختلف الخیال مکاتبِ فکر کی شخصیات اور تنظیمات کو ایک دوسرے کے قریب لائے۔۔۔ ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سننے اور سمجھنے کے لیے تحریک منہاج القرآن کے مرکز سے لے کر ضلع و تحصیل تک مختلف دینی اجتماعات میں وسعتِ قلبی کا عملی مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر مسالک کے نمائندوں کو بھی اظہارِ خیال کا موقع دیا۔

آپس میں دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے عملی اقدامات اور محسوس اثرات کے مرتب ہونے کا مثالی منظر چشمِ فلک کو دکھانے اور دنیائے عالم کے سامنے رکھنے کے بعد شیخ الاسلام جب اسلام اور مسلمانانِ عالم کے دفاع کا عزمِ مصمم کرتے ہوئے عرب و عجم اور بالخصوص مغرب و یورپ میں قدم رکھتے ہیں، تو جذباتیت کو ایک طرف رکھتے ہوئے منطق و فکر اور عقل و دانش اور دلیل و برہان کی قوت سے ہر معاشرہ کے مفکرین اور فلاسفہ، پالیسی سازوں، دانشوروں اور نقادوں کے قلوب و اذہان اور افکار و نظریات کو اس طرح مسخر کرتے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں پر صبح و شام دہشت گردی کا لیبل چسپاں کرنے والے تنگ نظر، متعصب اور مخصوص فکری پسِ منظر کے حامل ورطۂ حیرت میں گم ہوتے ہوئے انگشت بہ دنداں رہ جاتے ہیں اور وہ بے ساختہ تعلیماتِ نبویہ اور دینِ اسلام کے دین امن و سلامتی ہونے کا اعتراف و اقرار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

فروغِ امن کے لیے شیخ الاسلام کے بیانیہ کی پذیرائی کا بنیادی سبب

اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اندر اور بیرون ملک بھی بعض شخصیات اور اداروں کی طرف سے آواز بھی اٹھائی گئی۔ بعض تنظیموں کی طرف سے فتوے بھی صادر کیے گئے یہاں تک بہت سی حکومتوں کی طرف سے سرکاری سطح پر اس عفریت کے خلاف اقدامات بھی کئے گئے لیکن امرِ واقع یہ ہے کہ ان میں کسی بھی کوشش، آواز اور فتوے کو قومی یا بین الاقوامی سطح پر وہ پذیرائی حاصل نہ ہوسکی اور نہ وہ اتنے مؤثر ثابت ہوسکے جس قدر اللہ تعالیٰ ذوالعزۃ والجلال کے لطف و کرم اور نبی رحمت اور رسولِ امن و سلامتی کی رحمت کے توسل سے شیخ الاسلام مدظلہ کے فتویٰ اور اس ضمن میں ان کی دیگر علمی و تحقیقی کاوشوں کو ہر معاشرہ اور ہر طبقہ زندگی میں پذیرائی اور قبولیت حاصل ہوئی۔ فروغِ امن کے لیے شیخ الاسلام کی ان علمی و تحقیقی کاوشوں نے کس قدر قلوب و اذہان اور افکار ونظریات کو متاثر کیا ہے، اس کی مثال جدید علمی و فکری دنیا کی تاریخ میں عنقا ہے۔ کوئی بھی مذہب و مسلک اور
عقیدہ و نظریہ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔

شاملِ حال شہنشاہِ مدینہ کا کرم

حضور نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عنایات کریمانہ تو یہ ہیں کہ ورفعنالک ذکرک کا فرمان عالی شان جاری ہوا لیکن اس سے پہلے یہ مژدہ جانفزا بھی سنادیا کہ

وللآخرۃ خیرلک من الاولیٰ ولسوف یعطیک ربک فترضیٰ؛
بے شک آنے والی گھڑی آپ کی گزری ہوئی گھڑی سے بہتر ہے اور عنقریب ہم آپ کو اتنا عطاکریں گے کہ آپ راضی ہوجائیں گے۔

گویا کہ محبوب! ہماری عطاؤں اور نوازشوں کا سلسلہ آپ پر نہ صرف قیامت تک بلکہ اس کے بعد تک بھی جاری رہے گا۔ اس خبر ووعدہ میں ہر عطا اور ہر بلندی شامل ہے اور آخرت میں قیامت و مابعد قیامت ہر آن شامل ہے۔

اب صدیوں بعد اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ کے ساتھ یہ وعدہ کیسے پورا کرتا ہے۔۔۔ ؟ آیئے! اس فیض کا ایک کامل اظہار دیکھتے ہیں۔ جب خوارج کی صورت اسلام کی آستین میں چھپے درندہ صفت لوگوں کی دہشت گردانہ کارروائیوں کی وجہ سے اسلام کے رخِ روشن کو داغدار کرنے کی ابلیسی کوشش کی جاتی ہے اور خودکش دھماکوں کے ذریعہ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک میں نہتے انسانوں کو خون میں نہلانے کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے تو اس پر تمام اقوامِ عالم صرف ایک نقطہ پر اکھٹے ہوکر بہ یک زبان گویا ہوتے ہیں کہ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دینے والا مذہب ہے اور مسلمان ایک دہشت گرد قوم ہیں۔ جب نبی رحمت ﷺ کے دینِ رحمت کو انسانی قتلِ عام کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا تو پھر گنبدِ خضراء میں اس
 سراپا رحمت کے قلبِ اطہر پر کیا بیتی ہوگی؟

ان حالات میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف آواز اٹھانے سے ہر کوئی گھبراتا تھا اور جو اکا دکا آوازیں اٹھیں، وہ بم دھماکوں کے شور میں دب گئیں۔ یوں خود کش بمبار اپنی انسان دشمن کارروائیوں میں مصروف رہے۔ مظلوم انسانوں کے خون کی ندیاں بہتی رہیں اور انسانی روپ میں ان درندوں کی خوں آشامیوں میں ہر وعظ و نصیحت اور فتویٰ غیر مؤثر اور غیر ضروری قرار پاتا رہا۔ نہ حکومتوں نے ان کو اہمیت دی اور نہ شخصیات و تنظیمات نے ان کی طرف کوئی التفات کیا۔

ہاں! ایک تحریک جس کا خمیر ہی گنبدِ خضریٰ سے لیا گیا اور اس نے صاحبِ گنبد خضریٰ سے فیضان پاکر شرق تا غرب اقصیٰ عالم کی سرحدوں پر عظمتِ اسلام کا مصطفوی علم بلند کرکے پورے یقین سے آوازہ بلند کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ اس کائناتِ ارضی کے جملہ مسائل اور مشکلات کا حل صرف اور صرف دامنِ مصطفوی ﷺ سے وابستگی اور چادرِ رحمۃ للعالمینی کے سایہ میں پناہ لینے میں ہی ہے اور اُن کی صورت و سیرت کو سرچشمۂ ہدایت ماننے اور اپنانے میں دنیا و آخرت کی ساری کامیابیاں رکھی ہیں۔

درد و کرب کی اس صورت حال میں مؤسس منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری موت کی ندیوں میں تیرتی اور درد سے کراہتی انسانیت کے لیے ایک نجات دہندہ بن کر آہن و بارود کی اس سیاہ رات کے اندھیروں کو چیرتے ہوئے سپیدہ سحر کی مانند مطلعِ علم و تحقیق پر چمکتے ہیں اور نبی رحمت ﷺ کے دینِ اسلام کے پیغامِ امن کی نورانی اور ٹھنڈی کرنوں سے کرۂ عالم کو بقعۂ نور بنادیتے ہیں۔ پھر پوری دنیا کے کونے کونے سے حکومتوں سے لے کر تنظیموں تک اور اداروں سے لے کر شخصیات تک ہر کوئی اسلام کے پیغامِ امن و سلامتی اور احترامِ انسانیت کا درس سن کر تبریک و تحسین کرنے میں رطب اللسان نظر آتا ہے۔

ا پنے، پرائے اور مسلم و غیر مسلم ہر ایک کی آنکھیں عظمتِ اسلام کی کرنوں اور نورِ یقین سے چندھیا جاتی ہیں۔ ہر تہذیب اور ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے مفکرین و دانشور شیخ الاسلام مدظلہ کے دہشت گردی اور خوارج کے خلاف اس فتویٰ کو بالخصوص اور فروغِ امن و انسدادِ دہشت گردی و انتہا پسندی کے لیے کی گئی آپ کی جملہ مساعی کو بالعموم اپنے دل و دماغ اور فکرو نظر میں اتارتے ہوئے بہ یک زبان اسلام کے دینِ امن و سلامتی کا اتنا بلند آہنگ اعلان کرتے ہیں کہ بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے ذریعے خوف و ہراس پھیلانے والی سب آوازیں عالمی سفیرِ امن کی اس آواز کے نیچے دب جاتی ہیں۔

ایسا کیوں ہوا اور کیسے ہوا؟ کہ ساری دنیا دہشت گردی کے خلاف شیخ الاسلام کی ان علمی، فکری اور تحقیقی کاوشوں کے ساتھ ان کی ہم زباں ہوکر کھڑی ہوگئی اور کسی دوسرے کو ایسی پذیرائی اور قبولیت حاصل نہ ہوسکی؟ آخر اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہے لیکن وہ سب لوگوں کو نظر نہیں آتی۔

آیئے! اس وجہ کو ہم سب تلاش کرتے ہیں اور عام کرتے ہیں تاکہ مذکورہ سوال کا جواب ہر کسی کو معلوم ہو اور وہ پورے یقین سے اس مصطفوی قافلہ کا ہم سفر بن سکے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف شیخ الاسلام کی کاوشوں کو ملنے والی غیر معمولی پذیرائی و مقبولیت کا واحد سبب صاحبِ گنبد خضریٰ کی نظرِ رحمت کا فیض ہے جو شیخ الاسلام مدظلہ کو ہر آن اپنے سایۂ عاطفت میں لیے رکھتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب و حبیب ﷺ کے ذکر کو جو رفعت عطا کرتے ہوئے نصرت بالرعب کی شان عطا فرمائی ہے، اس کا ظہورِ تام تو آپ ﷺ کی حیاتِ ظاہری میں یوں تھا کہ مہینوں کی مسافت پر بھی دشمن کا قلب و سینہ آپ ﷺ کی ہیبت اور رعب و دبدبہ سے لرز جاتا تھا اور خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتے ہوئے یارۂ کلام نہ رہتا تھا۔ صدیاں بیت جانے کے باوجود خالقِ کائنات نے اپنے دینِ محبوب اور اپنے محبوب ﷺ کے قدموں سے نسبت حاصل کرلینے والے غلامانِ مصطفی کو بھی آپ ﷺ کی اس شان نصرت بالرعب کا فیض اس قدر عطا کررکھا ہے کہ دینِ مصطفوی کے دشمنوں کے دلوں میں غلامانِ مصطفوی کا رعب و دبدبہ اور ہیبت اس قدر ہے کہ وہ جس طرف نگاہ اٹھاتے ہیں، کسی کو نظریں ملانے کا یارا نہیں رہتا۔

یہ قدرتِ حق کی طرف سے عطا کردہ علومِ مصطفی کا فیض ہے کہ آج مشرق و مغرب اور یورپ کے بڑے بڑے علماء و مفکرین، دانشوروں اور عقل مندوں اور فلسفیوں کے فلسفے گنبد خضریٰ کے فیضان کے امین و قسیم اس عالمِ ربانی اور
عارفِ حقانی کے علم اور فکرو فلسفہ کے سامنے فرطِ عقیدت سے اپنی گردنیں خم کیے دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ لائقِ حمد اس ذات نے جس طرح اپنے محبوب ﷺ کو ممدوحِ کل بنایا ہے اور ہر فرد آپ ﷺ کی مدح سرائی میں مصروفِ عمل ہے، اس عطائے الہٰی کا فیض اس پروردۂ فیضانِ مصطفوی مؤسس تحریک منہاج القرآن کو اتنا وافر مقدار میں ملا ہے کہ آج دنیا میں کوئی خطہ، کوئی ملک ایسا نہیں جہاں ان کی دانشِ نورانی کا ڈنکا نہ بج رہا ہو اور مراکزِ فلسفہ و حکمت کا کوئی پارلیمان ایسا نہیں جہاں ان کی حکمت و دانشِ برہانی کا علم نہ لہرا رہا ہو۔

؎وہ جس نے ملت کے زخم خوردہ بدن پہ دی ہے ردائے حکمت
علوم و دانش کی مملکت میں اسی کا سکہ رواں دواں ہے

مرِ واقعہ یہ ہے کہ شیخ الاسلام مدظلہ اپنے قدسی ہاتھوں میں تعلق باللہ، ربطِ رسالت، محبتِ صحابہ، تعظیمِ اہلِ بیتِ اطہار اور تکریمِ اولیاء کرام کا پرچم تھامے ہوئے حقیقی اسلام کے پیغامِ امن، باہمی اخلاص و محبت، برداشت اور رواداری کی پرخلوص صدا لگارہے ہیں۔۔۔ اس صدا کی مٹھاس کی تاثیر نے کرۂ ارضی پر امت کے بکھرے ہوئے موتیوں کی مثل طبقات کو ملی وحدت و یکجہتی کی مضبوط زنجیر میں پرودیا ہے اور وہ اسلام کے حقیقی چہرہ کو دکھانے والے عصرِ حاضر میں امتِ مسلمہ کے الامام الاکبر کے کندھے سے کندھا ملاکر امنِ عالم، تحمل و برداشت اور رواداری کی معاشرتی اقدار کی بحالی کے لیے ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی ہے۔ یوں پوری ملتِ اسلامیہ اپنی تمام عقیدتوں، محبتوں، الفتوں اور چاہتوں کا انتساب دورِ حاضر کے مسلمانوں کے محسنِ اعظم اور دنیائے انسانی کے سب سے بڑے بہی خواہ کی طرف کرتے ہوئے اس قادرِ مطلق کے حضور یہ دعا کرتے دکھائی دیتی ہے:

چار سو تیری آواز گونجے
سدا ساری دنیا پہ تیری نظامت رہے
تو سلامت رہے تا قیامت رہے

(جاری ہے)


طاہرالقادری

جرأتوں کا نشاں طاہرالقادری
قوم کا پاسباں طاہرالقادری

کشتیِ ملک و ملت کو منزل رساں
صورتِ بادباں طاہرالقادری

بے بدل قائدِ کاروانِ وفا
بے شبہ بے گماں طاہرالقادری

داعیِ جذبۂ الفتِ باہمی
مشفق و مہرباں طاہرالقادری

محوِ تفسیرِ قرآں ہے شام و سحر
ہے عجب نکتہ داں طاہرالقادری

روشنی فکر کی بانٹنا جس کی خُو
علم کی کہکشاں طاہرالقادری

جس کی خوشبو رچی چار سو دہر میں
نکہتوں کا جہاں طاہرالقادری

بالیقیں اس صدی کا مجدد خوشا!
حق کا ہے ترجماں طاہرالقادری

غلبۂ دیں کی خاطر اٹھو سب چلو!
دے رہا ہے اذاں طاہرالقادری

دشمنوں کے ضرر سے بہ لطفِ نبی
پائے حفظ و اماں طاہرالقادری

مجھ سے ہمذالیؔ ہو اس کی توصیف کیا
میں کہاں اور کہاں طاہرالقادری

(انجینئر اشفاق حسین ہمذالیؔ)